Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
383 - 541
آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ بے نیازی : 
	ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ بے نیازی تھی کہ درِاَقْدس میں مال رکھنابھی گوارا نہ فرماتے بلکہ فوراًصَدقہ فرمادیا کرتے تھے ۔ چُنانچہ ایک رو زنماز ِعصر کا سلام پھیرتے ہی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدولت خانہ میں تشریف لے گئے ، پھرجلدی سے باہرآئے ، صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکومتعجب دیکھ کرارشادفرمایا : مجھے نمازمیں خیال آیا کہ صدقے  کاکچھ سونا گھر میں پڑاہے ، مجھے پسندنہ آیاکہ رات ہوجائے اوروہ گھر میں پڑا رہے ، اس لئے جا کر اسے تقسیم کر نے کا کہہ آیاہوں ۔ (1) 
	حضرت سیِّدُناابُوذَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ایک دن میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھا ، آپ نے اُحدپہاڑکودیکھ کرارشادفرمایا :  ’’ اگریہ پہاڑ میرے لئے سونا بن جائے تومیں  پسند نہیں  کروں گا کہ اس میں سے ایک دِیناربھی میرے پاس تین دن سے زِیادہ رہ جائے سِوائے اُس دِینارکے جسے میں اَدائے قرض کے لئے رکھ چھوڑوں ۔   ‘‘ (2) 
سب سے بڑھ کرسخی :
	حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاشہنشاہِ نَبُوَّت ، قاسِمِ نعمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ سَخاوت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں میں سب سے بڑھ کرسخی ہیں اورسَخاوت کادریاسب سے زِیادہ اس وَقْت جوش پرہوتاجب رَمَضانُ المبارَک میں جبریْلِ امینعَلَیْہِ السَّلَامآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ 



________________________________
1 -    بخاری ، کتاب العمل فی الصلاة ، باب یفکر الرجل   الخ ، ۱ / ۴۱۱ ، حدیث : ۱۲۲۱
2 -    بخاری ، کتاب فی الاستقراض...الخ ، باب اداء الدیون ، ۲ / ۱۰۵ ، حدیث : ۲۳۸۸