Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
382 - 541
گھر) میں داخل فرمائے گا ۔ (1) 
شرح حدیث : 
	علّامہ عبْدُالرَّؤف مُناوِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس حدیْثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : معلوم ہواکہ دُنیافیِ ْنَفْسہٖ مَذمُوم نہیں ہے ، چُونکہ یہ آخِرت کی کھیتی ہے لہٰذاجوشخص شریعت کی اِجازت سے اس کی کوئی چیزحاصل کرے گاتویہ چیزآخِرت میں اُس کی مدد کرے گی ۔ (2) پس ہمیں بھی چاہیے کہ ضرورت سے زِیادہ دُنیاکے پیچھے بھاگنے اورحرام ذَرائع اختیار کر کے مال ودولت جمع کرنے کے بجائے رزقِ حلال کمانے کاذہن بنائیں اورحَسْبِ اِسْتطاعت صَدَقہ وخَیْرات بھی کرتے رہیں ، اپنے رشتہ داروں ، پڑوسیوں اوردیگر غریبوں کی مالی مدد بھی کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جوکسی کی مددکرتاہے اللہعَزَّ  وَجَلَّاس کی مددفرماتا ہے اورراہِ خدا میں دینے سے مال  بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ۔ چنانچہ
صدقے سے مال کم نہیں ہوتا : 
	مروی ہے کہاللہعَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب ، حبِیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : صدقہ مال میں کمی نہیں کرتااوراللہتَعالیٰ مُعاف کرنے کی وجہ سے بندے کی عزّت ہی بڑھاتاہے اورجورضائے الٰہی کی خاطرعاجزی واِنکساری اپناتاہے اللہتعالیٰ اُسے بُلندی عطافرماتا ہے ۔ (3) 



________________________________
1 -    شعب الایمان ، باب فی قبض الید عن   الخ ، ۴ / ۳۹۶ ، حدیث : ۵۵۲۷
2 -    فیض القدیر ، ۳ / ۷۲۸ ، تحت الحدیث : ۴۲۷۳
3 -    مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ، باب استحباب العفو والتواضع ، ص۱۰۷۱ ، حدیث : ۶۵۹۲