تک مُطْمَئِن نہ ہوتے ، خودکسی چیزکی حاجت ہونے کے باوُجُودبھی غریبوں اورمُحتاجوں پر صَدَقہ کردیا کرتے اورسائل کواس قدرنوازتے کہ اُسے دوبارہ مانگنے کی حاجت ہی پیش نہ آتی ۔ مگر افسوس!صَدافسوس!ہماری حالت یہ ہے کہ دُنیاکی مَحَبَّت دل سے کم ہونے کا نام نہیں لیتی اورہر وَقْت دُنیاکی نعمتیں اورآسائشیں بڑھانے ہی کی دُھن ہے ۔
بڑی اورپسندیدہ نعمت :
حضرت سیِّدُنامَجْمَع اَنصاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مُتَعلِّق بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا : اللہعَزَّ وَجَلَّکامجھے دُنیا( کی آسائشوں) سے بچا لینے کااِحسان ، دنیاوی مال ودولت وغیرہ کی صورت میں ملنے والی نعمت سے افضل ہے کیونکہ اللہعَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے دُنیاکوپسندنہیں فرمایا ، لہٰذااس نے جونعمتیں اپنے نبی کے لئے پسندفرمائی ہیں وہ مجھے ان نعمتوں سے زیادہ پیاری ہیں جواس نے اپنے نبی کے لئے ناپسندفرمائیں ۔ (1) یادرکھئے ! دُنیاکے مال و دولت کی کثرت اوراِس کی آسائشیں ہونابے شک نِعمت ہے مگر اِن چیزوں سے بچ کر رہنایہ بڑی نِعمت ہے ۔
دنیامیٹھی اورسرسبز ہے :
رحمَتِ عالَم ، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ مُعظَّم ہے : دُنیامیٹھی اورسر سبزہے ، جواس میں حلال طریقے سے مال کماتاہے اورصحیح حُقُوق میں خرچ کرتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے ثواب عطافرمائے گااورجنّت میں داخِل فرمائے گااورجواس میں حرام طریقے سے مال کماتاہے اورغَیرِحق میں خرچ کرتاہے تواللہعَزَّ وَجَلَّاسے دارُالْھَوَان( یعنی ذِلّت کے
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب فی تعدید نعم الخ ، ۴ / ۱۱۷ ، حدیث : ۴۴۸۹