Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
380 - 541
 کاسامان کردیاہے ۔ پھرارشادفرمایا : تم نے چاراُونٹ دیکھے ؟میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ ارشاد فرمایا : یہ اُونٹ حاکِمِ فَدَک نے بھیجے ہیں ، ان پرلَداغَلَّہاورکپڑے سب تم رکھ لواوران کے ذریعے اپناقرضہ اداکردو ۔ میں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسا ہی کیا ، پھر میں مسجد میں آیااوربارگاہِ رسالت میں سلام عرض کیاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسارفرمایا : اس مال سے تجھے کیافائدہ حاصل ہوا؟میں نے عرض کی : اللہعَزَّ  وَجَلَّنے وہ تمام قَرض اَدا فرمادیاجواس کے رسول پرتھا ۔ ارشادفرمایا : اس مال میں سے کچھ باقی بھی بچا ہے ؟میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ ارشادفرمایا : مجھے اس سے بھی سَبُک دوش( بے تَعلُّق) کرو!جب تک یہ کسی ٹھکا نے نہ لگے گا ، میں گھرنہیں  جاؤں گا ۔   ‘‘ جب نمازِعشاسے فارغ ہوئے تومجھے بُلاکر اس بقیہ مال کا حال دریافت کیا ، میں نے عرض کی : وہ میرے پاس ہی ہے کوئی سائل نہیں ملا ۔ آپ رات مسجدہی میں رہے ، دُوسرے روزنمازِ عشاکے بعد پھراستفسارفرمایاکہ بقیہ مال کاکیاہوا؟تومیں نے عرض کی : یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہعَزَّ  وَجَلَّنے آپ کوسَبُک دوش کردیا ۔ یہ سُن کرآپ نے تکبیرکہی اورشکراَداکیاکیونکہ آپ کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ موت آجا ئے اوروہ مال میرے پاس ہو ۔ اس کے بعدمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے چلنے لگاحتّٰی کہ آپ کاشانَۂ اَقدس میں تشریف لے گئے ۔ (1) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس روایت سے معلوم ہواکہ ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مُصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس قَدَرسَخاوت فرمایا کرتے تھے  کہ کوئی بھی چیزاپنے پاس رکھناگوارا نہ فرماتے ، بلکہ جب تک لوگوں میں تقسیم نہ فرمادیتے اس وقت 



________________________________
1 -   ابو داود ، کتاب الخراج والفیء الامارة ، باب فی الامام یقبل الهدایاالمشرکین ، ۳ / ۲۳۰ ، حدیث : ۳۰۵۵