مُسلمان بارگاہِ اقدس میں حاضرہوتاتوآپ مجھے حکم فرماتے اور میں کسی سے قَرض لیتااور چادرخرید کراسے اُڑھاتااورکھانابھی کھلاتا ۔ ایک دن ایک مُشرِک میرے پاس آکرکہنے لگا : اے بلال!تم میرے سواکسی اورسے قرض نہ لیاکرو ، میرے پاس کثیر مال ہے ۔ میں نے ایساہی کیا ، ایک دن میں وضو کر کے اَذان دینے کے لئے کھڑاہواتوکیا دیکھتاہوں کہ وہ مُشرک کئی تاجروں کے ہمراہ میرے پاس آیااورمجھے بہت بُرا بھلاکہتے ہوئے کہنے لگا : ’’ تمہیں مَعلوم ہے وعد ے میں کتنے دن با قی ہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا : وَقْتِ وعدہ قریب آگیا ہے ۔ اس نے کہاکہ صرف چاردن باقی ہیں ، اگر اس مُدَّت میں تم نے قرض اَدا نہ کیا تومیں تمہیں غلام بناکربکریاں چرواؤں گاجیسے تم پہلے چرایاکرتے تھے ۔ یہ سُن کرمجھے فکردامن گیر ہوئی ، عشاکی نمازکے بعدرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے کاشانَۂ اَقْدس میں تشریف لے گئے ، میں اجازت لے کرحاضرِخدمت ہوااورعرض کی : ’’ یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پرقُربان ہوں!وہ مُشرک جس سے میں قرضہ لیتاہوں اس نے مجھے ایساایساکہاہے ، آپ کے پاس بھی اَدائے قرض کے لئے کچھ موجودنہیں ہے اورمیرے پاس بھی نہیں ، وہ مجھے رُسواکرے گا ۔ آپ اجازت دیجئے کہ میں ان لوگوں کے پاس چلاجاؤں جومُسلمان ہوچکے ہیں یہاں تک کہاللہعَزَّ وَجَلَّاتنامال عطافرمائے کہ جس سے قرض اَداہوجائے ۔ یہ کہہ کر میں وہاں سے نکل آیا ۔
صُبْح کے وَقْت جانے کے اِرادے سے جب میں باہر نکلا تو ایک شخص دوڑتاہوامیرے پاس آیا اور کہنے لگا : اے بلال !رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو بُلارہے ہیں ۔ ‘‘ میں حاضرہواتوکیادیکھتاہوں کہ سامان سے لَدے چاراُونٹ مَوْجُودہیں ۔ میں نے اندر آنے کی اِجازت مانگی توآپ نے ارشادفرمایا : مُبارک ہو!اللہتعالیٰ نے تمہارے قرض کی اَدائیگی