اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
درود شریف کی فضیلت :
حضورنَبِیِّ پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے : اَلْبَخِیْلُ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ ثُمَّ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّیعنی بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر ہوا ، پھر اس نے مجھ پر دُرودِ پاک نہ پڑھا ۔ (1)
پڑھتارہوں کثرت سے دُرودان پہ سدا میں
اور ذِکر کا بھی شوق پئے غوث ورضاؔ دے (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سخاوتِ مصطفٰے :
حضرت سیِّدُناعبدُاللّٰہہَوزَنیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ مقامِ حَلَب( شام) میں مُؤذِّنِ رسول حضرت سیِّدُنابلال حبشیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے میری مُلاقات ہوئی ، میں نے ان سے رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خرچ کے مُتَعَلِّق پوچھاتواُنہوں نے بتایاکہ سیِّدُالاسخیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جوکچھ ہوتااسے خرچ کرنے کی ذِمَّہ داری میری ہوتی تھی ، بِعْثت سے وفات شریف تک یہ کام میرے حوالے رہا ۔ جب کوئی بے لباس
________________________________
1 - مسند احمد ، حديث الحسین بن علی ، ۱ / ۴۲۹ ، حدیث : ۱۷۳۶
2 - وسائل بخشش مرمم ، ص۱۱۴