بڑی وجہ آج کل کے اَکْثر مسلمانوں میں اسلامی معلومات کی کمی اورسُنَّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے دُوری ہے ۔ اِسی سبب سے ہرطرف گُناہوں کاسیلاب اُمنڈآ یاہے !T.V. ، V.C.R اورانٹر نیٹ وغیرہ میں عشقِیہ فلموں اورفِسقیہ ڈراموں کو دیکھ کریا عشق بازِیوں کی مُبالَغہ آمیزخبروں نیز ناوِلوں ، بازاری ماہناموں ، ڈائجیسٹوں میں فَرضی عشقیہ اَفسانوں کو پڑھ کریا کالجوں اوریُونیورسٹیوں کی مَخلوط کلاسوں میں بیٹھ کریا نامَحرم رشتے داروں کے ساتھ خَلْط ملْط ہوکرآپَسی بے تکلُّفی کے دَلدَل کے اَندراُترکراَکْثرکسی نہ کسی کوکسی سے عِشق ہوجاتا ہے ۔ پہلے یکطرفہ ہو تاہے پھر جب فریْقِ اَوّل ، فریْقِ ثانی کو مُطَّلع کرتا ہے تو بعض اَوْقات دوطرفہ ہوجاتاہے اورپھرعُمُوماً گُناہ وعِصیان کاطُوفان کھڑاہوجاتاہے ۔ فُون پرجی بھرکر بے شرمانہ بات بلکہ بے حجابانہ مُلاقات کے سلسلے ہوتے ہیں ، مکتوبات وسَوغات کے تبادلے ہوتے ہیں ، شادی کے خُفیہ قَول وقَرارہوجاتے ہیں ، اگرگھروالے دیواربنیں تو بسا اَوقات دونوں فرار ہوجاتے ہیں ، بَعْدَ ہ( یعنی اس کے بعد) اَخْبار میں ان کے اِشْتِہارچھپتے ہیں ، خاندان کی آبرو کاسرِ بازار نیلام ہو تاہے ، کبھی ’’ کورٹ مَیرِج ‘‘ کی ترکیب بنتی ہے تو مَعَاذَاللہکبھی یُوں ہی بِغیر نکاح کے ........نیز ایسا بھی ہوتا رہتا ہے کہ بھاگتے نہیں بنتی تو خود کُشی کی راہ لی جاتی ہے ، جس کی خبریں آئے دن اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں ۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرہم میں سے کوئی ان گُناہوں میں مبُتلاہے توہاتھوں ہاتھ سچّے دل سے توبہ کرلیجئے ، اِس عشق سراپا فِسق سے نَجات کے لئے اللہغفارعَزَّ وَجَلَّکے عالی دربارمیں گڑگڑاکردُعامانگئے ، ہرممکن صورت میں اس وَبال سے پیچھا چُھڑائیے ، خودکو دینی کاموں میں ایک دَم مَشغول کردیجئے ۔ اللہورسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
________________________________
1 - نیکی کی دعوت ، ص۴۰