Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
367 - 541
چاند کے ٹکڑے تھے اعضا آپ کے 		تھے حَسِین و گول سانچے میں ڈھلے
تھی جبیں رَوشن کُشادہ آپ کی		چاند میں ہے داغ ، وہ بے داغ تھی
دونوں اَبرو تھیں مثالِ دو ہِلال		اور دونوں کو ہوا تھا اِتّصال
اِتّصالِ دو مَہِ ”عِیدَین“ تھا		یا کہ اَدنیٰ قُرب تھا ”قَوسَیْن“ کا
تھیں بڑی آنکھیں حَسِین و سُرمگیں		دیکھ کر قُربان تھیں سب حُورِ عِیں
کان دونوں خُوب صُورت اَرجْمَنْد		ساتھ خُوبی کے دَہَن بینی بُلند
صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا		صُورت  اپنی اُس میں ہر اِک دیکھتا
تابہ سِینہ رِیْشِ مَحبُوبِ اِلٰہ		خُوب تھی گُنجان مُو رنگ سیاہ
میں کہوں پہچان عُمدہ آپ کی		دونوں عالَم میں نہیں ایسا کوئی(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ہے ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاحسن وجمال آپ جیسانہ کبھی آیا ، نہ آئے گا ۔ آپ سَرتاپانُورکے مَرکزومَحْوَرتھے ، آپ کے تمام اَعْضائے مُبارَکہ خُوبی وکمال کے ایسے جامع تھے کہ اس کی نظیر ومِثال نہیں ملتی ۔  غورکریں کیاایسے پیارے سے بڑھ کربھی کوئی مَحَبَّت کے لائق  ہوسکتا ہے ؟ہر گزنہیں ، بالخُصُوص وہ لوگ جودُنیائے فانی کے عارضی حُسن کو دیکھ کرعشْقِ مَجازی کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر خِلافِ شریعت کاموں میں مبُتلا ہوکر اپنی دُنیا وآخرت بربادکرلیتے ہیں ان کے لئے مَقامِ غور ہے ۔ 
	شَیخِ طریقت ، اَمِیْرِ اَہلسُنَّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : اِس( عشْقِ مجازی) کی سب سے 



________________________________
1 -    سیرت مصطفٰی ، ص۵۶۳