Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
366 - 541
 پہلے آنکھوں میں تین تین بارسُرمہ ڈالتے ۔ (1) مُونچھ مُبارَک کو کَٹوایاکرتے اورفرماتے تھے کہ مُشرِکین کی مُخالفت کرویعنی داڑھیاں بڑھاؤاورمُونچھوں کوپَسْت رکھو ۔ (2) 
ہم   سیہ  کاروں   پہ  یارَبّ  تَپشِ  مَحشر   میں
سایہ اَفگن ہوں تیرے پیارے  کے پیارے گیسو(3)
	شعرکی وضاحت : اے میرے پَروَرْدْگارعَزَّ  وَجَلَّ!قِیامت کی سخت گرمی میں مجھے اپنے مَحبُوب کی والیل زُلْفوں کاسایہ نصیب کردیناتاکہ اُس جُھلسادینے والی دُھوپ کی حَرارَت سے مَحفُوظ رہ سکوں ۔  (4) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!آئیے !حُسن و جَمال کے پیکر ، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حُلیَۂ مبارَکہ کے مُتَعلِّق چنداَشْعار سنتے ہیں : 
رُوحِ حَق کا میں سراپا کیا لکھوں؟		حُلیَۂ نُورِ خُدا  میں  کیا لکھوں؟
پَر جَمالِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْں		جلوہ گر ہوگا مکانِ قَبْر میں
اس لئے ہے آگیا مجھ کو خَیال		مُختصر لکھ دوں جَمالِ بے مثال
تاکہ یاروں کو مِرے پہچان ہو		اور اس کی یاد بھی آسان ہو
تھا مِیانہ قَد و اَوسَط پاک تَن		پر سپید و سُرخ تھا رنگِ بدن



________________________________
1 -    ترمذی ، کتاب اللباس ، باب ماجاء فی الاکتحال ، ۳ /  ۲۹۳ ، حدیث : ۱۷۶۳
2 -    بخاری ، کتاب اللباس ، باب تقلیم الاظفار ، ۴ /  ۷۵ ، حدیث : ۵۸۹۲
3 -    حدائق بخشش ، ص۱۱۹
4 -    شرح کلام رضا ، ص۳۴۴