قَدَمَیْن شَرِیْفَیْن :
حضورنَبِیِّ پاک ، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاؤں مُبارَک پُرگوشت اور خُوبصُورت ایسے کہ کسی کے نہ تھے اورنَر م وصاف ایسے کہ ان پرپانی ذَرا بھی نہ ٹھہرتا بلکہ فوراًبہہ جاتا ۔ (1)
گورے گورے پاؤں چمکا دو خُدا کے واسطے
نُور کا تڑکا ہو پیارے گور کی شب تار ہے (2)
شعرکی وضاحت : اے میرے آقاصَلَّی اللہُ تعالی عَلَیْہِ وَسَلَّم!خُداکے لیے اپنے گورے گورے اورنُورانی قدمَیْن میری اندھیری قَبْر میں رکھ کرمیری قَبْرکی سیاہ رات کوصُبْحِ نُوربنادیجئے ! تاکہ میری وحشت دُورہوجائے اورنکیرَین کے سُوالات کے بآسانی جوابات دے سکوں ۔ (3)
مُوئے مُبارک :
سرِانورکے بال نہ توبہت گھنگریالے تھے اورنہ ہی بہت سیدھے بلکہ دونوں کے درمیان تھے ۔ (4) داڑھی مُبارک گھنی تھی ۔ (5) اسے کنگھی کرتے (6) اورآئینہ دیکھتے (7) اورسونے سے
________________________________
1 - معجم کبیر ، ۲۲ / ۱۵۵ ، حدیث : ۴۱۴
2 - حدائق بخشش ، ص۱۷۷
3 - ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۵۱۴
4 - بخاری ، کتاب المناقب ، باب صفة النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۲ / ۴۸۷ ، حدیث : ۳۵۴۷
5 - مسلم ، کتاب الفضائل ، باب اثبات خاتم النبوة...الخ ، ص ۹۸۲ ، حدیث : ۶۰۸۴
6 - ترمذی ، الشمائل ، باب ماجاء فی ترجل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۵۰۹ ، حدیث : ۳۳
7 - الزواجر ، الکبیرة الثانیة الشرک الاصغر وھو الریاء ، ۱ / ۸۸