Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
365 - 541
قَدَمَیْن شَرِیْفَیْن : 
	حضورنَبِیِّ پاک ، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاؤں  مُبارَک پُرگوشت اور خُوبصُورت ایسے کہ کسی کے نہ تھے اورنَر م وصاف ایسے کہ ان پرپانی ذَرا بھی نہ ٹھہرتا بلکہ فوراًبہہ جاتا ۔ (1) 
گورے گورے پاؤں چمکا دو خُدا کے واسطے
نُور  کا  تڑکا  ہو  پیارے  گور  کی شب تار ہے (2)
	شعرکی وضاحت : اے میرے آقاصَلَّی اللہُ تعالی عَلَیْہِ وَسَلَّم!خُداکے لیے اپنے گورے گورے اورنُورانی قدمَیْن میری اندھیری قَبْر میں رکھ کرمیری قَبْرکی سیاہ رات کوصُبْحِ نُوربنادیجئے ! تاکہ میری وحشت دُورہوجائے اورنکیرَین کے سُوالات کے بآسانی جوابات دے سکوں ۔ (3) 
مُوئے مُبارک :
	سرِانورکے بال نہ توبہت گھنگریالے تھے اورنہ ہی بہت سیدھے بلکہ دونوں کے درمیان تھے ۔ (4) داڑھی مُبارک گھنی تھی ۔ (5) اسے کنگھی کرتے (6) اورآئینہ دیکھتے (7) اورسونے سے



________________________________
1 -    معجم کبیر ، ۲۲ /  ۱۵۵ ، حدیث : ۴۱۴
2 -    حدائق بخشش ، ص۱۷۷
3 -   ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۵۱۴
4 -    بخاری ، کتاب المناقب ، باب صفة النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۲ /  ۴۸۷ ، حدیث : ۳۵۴۷
5 -    مسلم ، کتاب الفضائل ، باب اثبات خاتم النبوة...الخ ، ص ۹۸۲ ، حدیث : ۶۰۸۴
6 -    ترمذی ، الشمائل ، باب ماجاء فی ترجل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ /  ۵۰۹ ، حدیث : ۳۳
7 -     الزواجر ، الکبیرة الثانیة الشرک الاصغر وھو الریاء ، ۱ /  ۸۸