Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
364 - 541
 بَیان کی شان و شَوکت اور رُعب و دبدبے پہ لاکھوں سَلام ہوں ۔ (1) 
ہاتھ  مبارک : 
	مصطفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہتھیلیاں اوربازُومُبارَک پُرگوشت تھے ۔  حضرت سیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’ میں نے کسی ریشمی کپڑے کو آپ کی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم نہیں پایااورنہ کوئی خُوشبوآپ کی خُوشْبُو سے بڑھ کر پائی ۔   ‘‘ (2) حضورنَبِیِّ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجس سے مُصافَحہ فرماتے وہ دن بھراپنے ہاتھ میں خُوشبوپاتااورجس بچہ کے سَرپرآپ دَسْتِ مُبارک رکھ دیتے وہ خُوشبو میں دوسرے  بچوں سے مُمتاز ہوجاتا ۔ (3) 
جن کو سُوئے آسماں پھیلاکے جل تھل بھر دئیے
صَدْقہ ان ہاتھوں کا پیارے ہم کو بھی دَرکار ہے (4)
	شعرکی وضاحت : اے میرے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جن گورے ، نُورانی اور بابرکت ہاتھوں کو آسمان کی طرف بارِش کے لیے دُعا کرتے ہوئے پھیلا کر آپ نے مدینَۂ طیّبہ میں پانی ہی پانی کردیااُن نُورانی  ہاتھوں کا صَدْقہ ہمیں بھی عَطا ہو ، یعنی ہماری بخشش کے لیے بھی ایک بار( وہ مُبارک ہاتھ) اُٹھا دیجئے ۔ (5) 



________________________________
1 -   ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۱۰۲۸ ، ۱۰۲۹
2 -    بخاری ، کتاب المناقب ، باب صفة النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۲ /  ۴۸۹ ، حدیث : ۳۵۶۱
3 -    سیرت رسول عربی ، ص۲۶۳
4 -   حدائق بخشش ، ص۱۷۶
5 -     ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۵۱۴