کان مُبارَک :
سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک کان کا مل وتا م تھے ۔ قُو ّتِ بَصارت کی طرح اللہعَزَّ وَجَلَّنے آپ کوقُوتِ سَماعت بھی کمال کی عطافرمائی تھی ۔ اسی لئے آپ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرماتے کہ جومیں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھ سکتے اور جومیں سُنتا ہوں تم نہیں سُن سکتے ، میں تو آسمان کی آواز بھی سُن لیتا ہوں ۔ (1)
دُور و نزدیک کے سُننے والے وہ کان کانِ لَعلِ کرامَت پہ لاکھوں سلام(2)
شعرکی وضاحت : نورکے پیکرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک کان درحقیقت عزّت کے موتی ، عظمت و شان کے ہیرے اور جواہرات کی کان ہیں ، جس طرح قریب سے سنتے ہیں اسی طرح دُورسے بھی سنتے ہیں ۔ آپ اپنی والدۂ ماجدہ کے بَطْنِ اَقدَس میں رہ کرلَوح مَحفُوظ پہ چلنے والے قلم کی آوازبھی سن لیتے پھرایسے مُبارک کان پہ بھی کیوں نہ لاکھوں سَلام کہے جائیں ۔ (3)
دَہنِ مُبارک :
حضورپُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامُبارَک مُنہ فَراخ ، رُخْسارمُبارک ہموار ، سامنے کے دانت مُبارک کُشادہ اوررَو شن وتاباں تھے ، جب آپ کلام فرماتے توان سے نُورنکلتا دکھائی دیتاتھا ۔ حضرت سیِّدُناابُوہُرَیْرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب الزهد ، باب الحزن والبکاء ، ۴ / ۴۶۴ ، حدیث : ۴۱۹۰
2 - حدائق بخشش ، ص ۳۰۰
3 - ماخوذازشرح کلام رضا ، ص ۱۰۱۶