Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
361 - 541
کان مُبارَک :
	سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک کان کا مل وتا م تھے ۔ قُو ّتِ بَصارت کی طرح اللہعَزَّ  وَجَلَّنے آپ کوقُوتِ سَماعت بھی  کمال کی عطافرمائی تھی ۔ اسی لئے آپ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرماتے کہ جومیں دیکھتا ہوں  تم نہیں دیکھ سکتے اور جومیں سُنتا ہوں تم نہیں سُن سکتے ، میں تو آسمان کی آواز بھی سُن لیتا ہوں ۔ (1) 
دُور و نزدیک کے سُننے والے وہ کان		کانِ لَعلِ کرامَت پہ لاکھوں سلام(2)
شعرکی وضاحت : نورکے پیکرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک کان درحقیقت عزّت کے موتی ، عظمت و شان کے ہیرے اور جواہرات کی کان ہیں ، جس طرح قریب سے سنتے ہیں اسی طرح دُورسے بھی سنتے ہیں ۔ آپ اپنی والدۂ ماجدہ کے بَطْنِ اَقدَس میں رہ کرلَوح مَحفُوظ پہ چلنے والے قلم کی آوازبھی سن لیتے پھرایسے مُبارک کان پہ بھی کیوں نہ لاکھوں سَلام  کہے جائیں ۔ (3) 
دَہنِ مُبارک :
	حضورپُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامُبارَک مُنہ فَراخ ، رُخْسارمُبارک ہموار ، سامنے کے دانت مُبارک کُشادہ اوررَو شن وتاباں تھے ، جب آپ کلام فرماتے توان سے نُورنکلتا دکھائی دیتاتھا ۔ حضرت سیِّدُناابُوہُرَیْرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی



________________________________
1 -    ابن ماجہ ، کتاب الزهد ، باب الحزن والبکاء ، ۴ /  ۴۶۴ ، حدیث : ۴۱۹۰
2 -    حدائق بخشش ، ص ۳۰۰
3 -   ماخوذازشرح کلام رضا ، ص ۱۰۱۶