( یعنی مبارک ناک) پہ ہروَقْت اس طرح نُور چمکتا رہتاہے کہ یوں لگتا ہے جیسے لِواءُالْحَمْد ( قِیامت کے دن اللہکی حمدکاجھنڈاجوحُضُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاتھ میں ہوگااس) کاپھریرا ( جھنڈا) لہرارہا ہے ۔ (1)
پیشانی مبارک :
حضورانورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیشانی مُبارک کُشادہ تھی اورچراغ کی مانندچمکتی تھی ۔ حضرت سیِّدُناحَسان بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :
مَتٰی یَبْدُ فِی اللَّیْلِ الْبَھِیْمِ جَبِیْنُہٗ بَلَجَ مِثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَی الْمُتَوَ قِّدٖ
ترجمہ : جب اندھیری رات میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیشانی ظاہرہوتی توتاریکی کے روشن چَراغ کی مانندچمکتی تھی ۔ (2)
سیِّدِی اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :
جس کے ماتھے شَفاعت کا سہرا رہا اس جَبیْنِ سَعادَت پہ لاکھوں سلام(3)
شعرکی وضاحت : جب حَشْر بپا ہوگا اور نفسا نفسی کا عالَم ہوگا ، کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگاتوشَفاعَت کاسہراپیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سرسجے گاتوپھرلجپال آقاکی سَعادَت والی پیشانی پہ کیوں نہ لاکھوں بار دُرُوْد و سَلامِ مَحَبَّت پیش کِیا جائے ، جن کی وجہ سے ہماری یہاں بھی بگڑی بن رہی ہے اور وہاں بھی بنے گی ۔ (4)
________________________________
1 - ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۷۱۰
2 - سبل الهدی والرشاد ، الباب الرابع فی صفة جبینہ...الخ ، ۲ / ۲۱
3 - حدائق بخشش ، ص۳۰۰
4 - ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۱۰۲۰