Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
360 - 541
 ( یعنی مبارک ناک) پہ ہروَقْت اس طرح نُور چمکتا رہتاہے کہ یوں لگتا ہے جیسے لِواءُالْحَمْد ( قِیامت کے دن اللہکی حمدکاجھنڈاجوحُضُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاتھ میں ہوگااس) کاپھریرا ( جھنڈا) لہرارہا ہے ۔ (1) 
پیشانی مبارک : 
	حضورانورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیشانی مُبارک کُشادہ تھی اورچراغ کی مانندچمکتی تھی ۔ حضرت سیِّدُناحَسان بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : 
مَتٰی یَبْدُ فِی اللَّیْلِ الْبَھِیْمِ جَبِیْنُہٗ		بَلَجَ مِثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَی الْمُتَوَ قِّدٖ
	ترجمہ : جب اندھیری رات میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیشانی ظاہرہوتی توتاریکی کے روشن چَراغ کی مانندچمکتی تھی ۔ (2) 
	سیِّدِی اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : 
جس کے ماتھے شَفاعت کا سہرا رہا		اس جَبیْنِ سَعادَت پہ لاکھوں سلام(3)
	شعرکی وضاحت : جب حَشْر بپا ہوگا اور نفسا نفسی کا عالَم ہوگا ، کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگاتوشَفاعَت کاسہراپیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سرسجے گاتوپھرلجپال آقاکی سَعادَت والی پیشانی پہ کیوں نہ لاکھوں بار دُرُوْد و سَلامِ مَحَبَّت پیش کِیا جائے ، جن کی وجہ سے ہماری یہاں بھی بگڑی بن رہی ہے اور وہاں بھی بنے گی ۔ (4) 



________________________________
1 -   ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۷۱۰
2 -    سبل الهدی والرشاد ، الباب الرابع فی صفة جبینہ...الخ ، ۲ /  ۲۱
3 -   حدائق بخشش ، ص۳۰۰
4 -    ماخوذازشرح کلام رضا ، ص۱۰۲۰