Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
358 - 541
فرماکر اللہعَزَّ  وَجَلَّنے آپ کے چہرۂ انورکی قسم یادفرمائی ہے اوروَالَّیْلِ اِذَاسَجٰیفرماکرآپ کی کُنڈل والی سیاہ زلفوں کی قسم یادفرمائی ہے ، گویادن اگرمُنَوَّروروشن ہے تورخِ مصطفٰے سے اوررات اگراندھیری  وسیاہ ہے توزُلْفِ دوتاسے ۔ “(1) 
چشمان مبارک : 
	پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارک آنکھیں بڑی اور قُدر تِ الٰہی سے سُرمَگِیں( سرمہ والی) اور پلکیں دَرازتھیں ۔  آنکھوں کی سفیدی میں باریک سُرخ ڈور ے تھے ۔ گزشتہ کتب میں یہ بھی آپ کی ایک علامَتِ نَبُوَّت تھی ۔ 
سُرمگیں آنکھیں حَریْم ِحق کے وہ مُشکیں غَزال
ہے فَضائے لامکان تک جن کا رَمْنا  نُور کا(2)
	شعرکی وضاحت : رات کوبھی دن کی طرح دیکھنے والی اورآگے پیچھے یکساں دیکھنے والی ، کَسْتُوْرِی سے بھرپورقُدْرَتی سُرمہ لگی ہوئی ، میرے آقا ، مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حَسِین و جَمِیل آنکھیں جونیچے جھکیں تو( نَظَر) تَحتُ الثَّریٰ( زمین کے سب سے نچلے طبقے ) تک جائے اوراُوپراُٹھیں تونَظَرعرشِ مُعلیّٰ سے بھی پارہوجائے اوران بابرکت اورنورانی آنکھوں کا اپنے حلقوں میں گھُومنا بھی نور ہی نور ہے کیونکہ اِنہی کے اشاروں سے ہم گنہ گاروں کی نجات ہوگی ۔ (3) 



________________________________
1 -    ماخوذازشرح کلام رضا ، ص ۲۲۶
2 -   حدائق بخشش ، ص۲۴۸
3 -    ماخوذ ازشرح کلام رضا ، ص۷۲۱