Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
357 - 541
تاب نہ لاتیں ۔ “(1) 
اِک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالَم کو		وہ اگر جلوہ کریں کون تَماشائی ہو(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُورجانِ عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حُسن وجَمال اوراَوصاف و کمال کوبیان کرنے کا ہم ہرگز حق اَدانہیں کرسکتے لیکن آپ کے ذِکْرِ مُبَارَک  سے بَرَکت حاصل کرنے کے لئے ، آپ کے چند اَعضائے شریفہ کے تَناسُب اور حُسن و جمال کے تَذکرے کرکے اپنے لئے رَحْمتوں اوربَرکتوں کاسامان اِکٹھاکرتے ہیں ۔  چُنانچہ
چہرۂ مبارَک :
	مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاچہرۂ مُبارک جَمالِ الٰہی کاآئینہ اور اَنوار وتجلیات کا مَظہَرتھا ، پُر گوشت اورکِسی قَدَر گول تھا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چہرۂ انورکودیکھتے ہی حضرت سیِّدُناعبدُاللّٰہبن سلامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپُکاراُٹھے کہ ’’ یہ دَروغ گو ( یعنی جھوٹے ) کاچہرہ نہیں  ‘‘ اورایمان لے آئے ۔ (3) 
ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحیٰ ترے چہرۂ نور فَزا کی قسم
قسم شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلفِ دَوتا کی قسم(4)
	شعرکی وضاحت : اے میرے نوروالے آقا!قرآنِ مجیدمیں وَالشَّمْس وَالضُّحٰی 



________________________________
1 -    شرح المواهب ، المقصد الثالث فیما فضلہ اللّٰہ تعالی بہ ، الفصل الاول فی کمال خلقتہ...الخ ، ۵ /  ۲۴۱
2 -   ذوق نعت ، ص۱۴۲
3 -    ابن ماجہ ، کتاب اقامة الصلاة والسنة فیها ، باب ماجاء فی قیام اللیل ، ۲ /  ۱۲۷ ، حدیث : ۱۳۳۴
4 -    حدائق بخشش ، ص۸۰