Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
355 - 541
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیْقَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب سے زِیادہ خُوبصورت اورخُوش رنگ تھے ۔ جس نے بھی آپ کی تعریف وتَوصیف بیان کی اس نے آپ کو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی ، پسینَۂ مُبارَکہ کی بُوندآپ کے چہرۂ اَنْور میں چمک دارموتی کی طرح معلوم ہوتی ۔ (1) 
	حضرت سیِّدُناجابر بن سَمُرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے حضور نَبِیِّ پاک ، صاحِبِ لالاکصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوچاندنی رات میں دیکھا ، میں کبھی چاندکی طرف دیکھتااور کبھی آپ کے چہرۂ اَنورکو دیکھتاتو مجھے آپ کاچہرہ چاندسے بھی زِیادہ خُوبصُورت نظرآتاتھا  ۔ (2) 
یہ جو مَہر و مَہ پہ ہے اِطلاق آتا نُور کا		بھیک تیرے نام کی ہے اِسْتِعارہ نُور کا(3)
چاندسے تشبیہ دینے میں حکمت : 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضورنَبیِّ رحمت ، شفِیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حُسن وجَمال سے مُتَعلِّق صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے دِلنشین فَرامین سُن کریقیناًعاشقانِ رسول کے دل خُوشی سے جُھوم اُٹھے ہوں گے ۔ بیان کردہ رِوایتوں میں صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے چہرۂ اَنْور کو چاند سے تشبیہ دی حالانکہ سُورج کی روشنی چاند سے زِیادہ ہوتی ہے ، اس کی حکمت یہ ہے کہ چاندرُوئے زمین کواپنی تابانیوں سے بھردیتاہے اور دیکھنے والوں کو اس سے اُنْسِیَت حاصل ہوتی ہے اور بغیر کسی تکلیف کے اس پر نظریں



________________________________
1 -    دلائل النبوة لابی نعیم ، الفصل الثلاثون فی ذکر مؤازاة...الخ ، القول فیما اوتی یوسف علیہ السلام ، ص۳۶۰
2 -    ترمذی ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی الرخصة...الخ ، ۴ /  ۳۷۰ ، حدیث : ۲۸۲۰
3 -   حدائق بخشش ، ص٢٤٨