پیشانی کی زِیارت کرلیتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتیں ۔ (1)
ترا مَسندِ ناز ہے عرشِ بریں ترا مَحرمِ راز ہے رُوحِ امیں
تُو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے شہا ترا مِثل نہیں ہے خُدا کی قسم(2)
شعرکی وضاحت : اے میرے عظمت وشان والے نبی!آپ کی عظمتوں کاکون اَندازہ لگاسکتاہے کہ عرشِ مُعَلّٰی تو آپ کے نازواَداسے بیٹھنے کی جگہ ہے اور جبریْلِ اَمین آپ کے ہمرازووزیرہیں اورآپ دونوں جہانوں کے بادشاہ ہوئے ، میں کیاکیاعرض کروں ، میرے آقا ، خُدا کی قسم! آپ جیسا کوئی نہیں ۔ (3)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُورنَبِیِّ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ بے مثال کوہم بَھلاکیاسمجھ سکتے ہیں؟حضرات صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جودن رات سَفَرو حَضَرمیں جمالِ نَبُوَّت کی تجلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھاکرتے تھے اُنہوں نے نُور کے پیکر ، محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جمالِ بے مِثال کوجِن لفظوں میں بیان فرمایا ، ملاحظہ کیجئے ۔ چُنانچہ
سب سے زیادہ حسین وجمیل :
حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں نے ہرحَسین چیزدیکھی ہے لیکنرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے زِیادہ حَسِین وجَمِیل میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ (4)
________________________________
1 - شرح المواهب ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ...الخ ، ام المومنین عائشة ، ۴ / ۳۹۰
2 - حدائق بخشش ، ص۸۱
3 - شرح کلام رضا ، ص۲۲۶
4 - سبل الهدی والرشاد ، جماع ابواب صفة جسدہ...الخ ، الباب الاول فی حسنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۲ / ۷