Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
350 - 541
  تھوڑی ہی دیر کے بعد اُمِّ مَعْبد کے شوہرابومعبد گھر آئے ، اُنہوں نے اِتنا کثیر دُودھ دیکھا توتعجب سے پوچھا : اے اُمِّ مَعْبد ! اِتنا دُودھ کہاں سے آگیا ؟حالانکہ گھر میں دُودھ والاکوئی جانوربھی نہیں؟اُمِّ مَعْبَدنے کہا : اللہعَزَّ  وَجَلَّکی قسم!ابھی ابھی ان ان صفات کاحامل ایک مُبارک شخص یہاں سے گزراہے ۔ ابُو مَعْبدنے کہا : ذَرامیرے سامنے ان کا حُلیہ تو بیان کرو ۔ 
	اُمِّ مَعْبدنے کہا : ”میں نے ایک ایسی ذات دیکھی ہے جن کا حُسن نُمایاں تھا ، چہرہ خُوبصورت اورتخلیق بہت عُمدہ ہوئی تھی ، بڑے حَسین ، اِنْتہائی جمیل تھے ، آنکھیں سیاہ اور بڑی ، پلکیں لمبی تھیں ، آوازگُونج دار ، گردن چمکدارجبکہ داڑھی مُبارَک گھنی تھی ، دونوں اَبرو باریک اور ملے ہوئے تھے ، ان کے مُبارَک قَد میں بھی بہت مِیانہ رَوِی تھی ، نہ اِتنا طویل قَد کہ دیکھ کر بُرا لگے اورنہ اِتنا پَسْت کہ دیکھ کرحقیر معلوم ہو ، دُورسے دیکھوتوبہت زِیادہ بارُعب اورحَسین و جمیل نظر آتے اورقریب سے دیکھاجائے تواس سے  کہیں زِیادہ خُوبرواورحَسین دِکھائی دیتے ۔   ‘‘ یہ سراپاسُن کرابُومَعْبَدنے کہا : بخدا! یہ تووہی ذاتِ گرامی  ہیں ، جن کا مُعاملہ ہمیں مکَّۂ مکرّمہ سے پہنچا ہے ،  میری توخواہش ہے کہ ان کی رَفاقت اِخْتیار کروں ۔ اگرمیرے اِخْتیارمیں ہواتومیں اپنی اس خواہش کی تکمیل ضَرورکروں گا( اورپھر ایساہی ہواکہاللہعَزَّ  وَجَلَّنے حضورنَبِیِّ رَحمت ، باعِثِ خَیْروبرکتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بابرکت قَدَم ان کے گھرمیں پڑجانے کی برکت سے اَبُومَعْبَداوراُمِّ مَعْبدکونہ صرف دولَتِ اسلام سے سرفَراز فرمایابلکہ شَرفِ صحابیّت بھی عطافرمادیارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)  ۔ (1) 
خِلق تُمہاری جمیل ، خُلق تمہارا جلیل		خَلق تمہاری گدا تم پہ کروڑوں دُرُود(2)



________________________________
1 -    معجم کبیر ، ۴ /  ۴۸ ، حدیث : ۳۶۰۵
2 -    حدائق بخشش ، ص۲۶۸