کومزیدگرمایاجاتاہے ۔ آج کے بَیان کامَوضُوع بھی ’’ جمالِ مصطفٰے ‘‘ ہے ۔ آئیے !نہایت ہی تَوَجُّہ اوردِلجمعی کے ساتھ حُسن وجَمالِ مُصطفٰے سے مُتَعَلِّق سُنتے ہیں ۔ چُنانچہ
حُسن وجمالِ مصطفٰے :
مروی ہے کہ محبوبِ ربّ ، شہنشاہِ عرب وعجمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مکَّۂ مکرّمہ سے مدیْنۂ مُنوَّرہ کی طرف ہجرت کے لئے اپنے چندصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ روانہ ہوئے تو ’’ اُمِّ مَعْبَد ‘‘ کے خیمے کے پاس سے گُزرے ، وہ آپ کوپہچانتی تونہ تھی لیکن تھی بڑی عقل مند ، اپنے خیمے کے پاس بیٹھ جاتی اورمُسافِروں کو کھانا وغیرہ کھلایا کرتی ۔ اس مُبارک کارواں نے اِن سے گوشت اور کھجوروں کے بارے میں پُوچھاتاکہ ان سے خرید لیں لیکن اِتِّفاق سے اُس وَقْت اُن کے پاس کچھ نہ تھا ۔ حُضُورِنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خیمے کے کونے میں ایک کمزوربکری دیکھ کرپوچھا : ”اے اُمِّ مَعْبَد!یہ کیسی بکری ہے ؟“اُنہوں نے عَرْض کی : کمزورولاغرہونے کی وجہ سے ریوڑکے ساتھ نہیں جاسکی ۔ استفسارفرمایا : ’’ کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ ‘‘ عرض کی : اس نے توکبھی دودھ دیاہی نہیں( بلکہ اس نے توکبھی بچہ بھی نہیں جنا) ۔ ارشادفرمایا : ’’ کیاتم اجازت دیتی ہوکہ میں اس کادودھ دوہ لوں؟ ‘‘ عرض کی : کیوں نہیں!میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں ، اگرآپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تودوہ لیں ۔ چنانچہ آپ نے بکری منگوائی اوراللہعَزَّ وَجَلَّکانام لے کراس کے تھنوں اورکمرپراپنامبارک ہاتھ پھیراوراس کے لئے دعافرمائی توبکری نے اپنی ٹانگیں کشادہ کر دیں اوردودھ دینے لگی ، آپ نے برتن منگواکراس میں دودھ دوہاحتّٰی کہ وہ اوپر تک بھرگیا ، پھراُمِّ مَعْبَدکوپلایا یہاں تک کہ وہ سیرہوگئی ، پھرصحابہ کوبھی پیٹ بھرکرپلایااورخودآخرمیں پیا ، پھردودھ نکالا حتّٰی کہ برتن بھرگیا ، دودھ سے بھرابرتن اُمِّ مَعْبَدکودیااوروہاں سے تشریف لے گئے ۔