Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
341 - 541
 الرِّضْوَان جَلال میں آگئے اوراسے مارناچاہاتورَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایا : اسے چھوڑدو ۔ پھراُسے اپنے پاس بُلاکربٹھایااورنہایت نَرْمی اورشَفقَت کے ساتھ سُوال کیا : اے نَوجَوان!کیاتجھے پسندہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے ؟اُس نے عَرْض کی : میں اسے کیسے رَوا( جائز) رکھ سکتاہوں؟اِرْشادفرمایا : توپھردوسرے لوگ تیرے بارے میں اِسے کیسے رَوا رکھ سکتے ہیں؟ پھردریافت فرمایا : تیری بیٹی سے اگراِس طرح کِیا جائے تو تُو اسے پَسَندکرے گا؟عَرْض کی : نہیں ۔ اِرْشادفرمایا : اگرتیری بہن سے کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے تو؟اوراگرتیری خالہ سے کرے تو؟اسی طرح آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ایک رِشْتے کے بارے میں سُوال فرمایااوروہ یہی کہتارہاکہ مجھے پسندنہیں ۔  تبرَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے سینے پرہاتھ رکھ کربارگاہِ الٰہی میں عَرْض کی :  ’’ اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!اس کے دِل کوپاک کردے ، اس کی شَرْم گاہ کوبچالے اوراِس کاگناہ بخش دے ۔   ‘‘ اس کے بعد وہ نَوجَوان تمام عُمْربدکاری سے بیزاررہا ۔ (1) 
اِجابت نے جُھک کر گلے سے لگایا		بڑھی ناز سے جب دُعائے مُحَمَّد
اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا		دُلہن بن کے نِکلی دُعائے مُحَمَّد(2)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کتنی مَحَبَّت وشَفقَت کے ساتھ سمجھایااوربرائی سے روکنے کے لئے کیسے پیارے اندازمیں اس نَوجوان کی اِصلاح فرمائی ، لہٰذانیکی کی دعوت دینے والے کوحکمَتِ عملی اِخْتِیار کرتے ہوئے تحمل مِزاجی کامُظاہرہ کرناچاہیے کیونکہ ’’ نَرْمی  ‘‘ سے جوکام ہوتا ہے وہ ’’ گرمی  ‘‘ 



________________________________
1 -    مسند احمد ، مسند انصار ، ۸ /  ۲۸۵ ، حدیث : ۲۲۲۷۴
2 -   حدائق بخشش ، ص۶۶