(2)…ارشادفرمایا : اِنَّ الرِّفْقَ لَايَكُوْنُ فِيْ شَيْءٍ اِلَّازَانَهٗیعنی نرمی جس چیزمیں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے ، وَلَايُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ اِلَّاشَانَهٗاورجس چیزسے نکال لی جاتی ہے اُسے عیب دارکردیتی ہے ۔ (1)
(3)…ارشادفرمایا : مَنْ يُّحْرَمُ الرِّفْقَ يُحْرَمُ الْخَيْرَیعنی جونرمی سے محروم رہاوہ ہربھلائی سے محروم رہا ۔ (2)
(4)…ارشادفرمایا : مَنْ اُعْطِىَ حَظَّهٗ مِنَ الرِّفْقِیعنی جسے نرمی میں سے حصہ دیاگیا ، فَقَدْاُعْطِىَ حَظَّهٗ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَاوَالْاٰخِرَةِاسے دنیاوآخرت کی اچھائیوں میں سے حصہ دیا گیا ۔ (3)
بنا دو صبر و رِضا کا پیکر بنوں خُوش اَخلاق ایسا سرور
رہے سدا نرم ہی طبیعت نَبیِّ رحمت شفیْعِ اُمَّت(4)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض ایسے بھی نادان ہوتے ہیں جوغصے کو بہادری ، مردانگی ، عزتِ نفس اور بُلند ہمّتی قراردیتے ہیں ، ایسی سوچ رکھنے والوں کونَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی حلم اورنرمی والی سُنَّت پرعمل کرناچاہیے کہ نرمی کے بے شُمار فوائدہیں ۔ چنانچہ
آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سمجھانے کا پیارا انداز :
مَروِی ہے کہ ایک نَوجَوان بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض گزارہوا : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے بَدکاری کی اِجازَت دیجئے ۔ یہ سنتے ہی تمام صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ
________________________________
1 - مسلم ، کتاب البر والصلة ، باب فضل الرفق ، ص۱۰۷۳ ، حدیث : ۶۶۰۲
2 - مسلم ، کتاب البر والصلة ، باب فضل الرفق ، ص۱۰۷۲ ، حدیث : ۶۵۹۸
3 - مسند احمد ، مسند السیدة عائشة ، ۹ / ۵۰۴ ، حدیث : ۲۵۳۱۴
4 - وسائل بخشش مرمم ، ص ۲۰۸