ساتھ خَیْرخواہی اوراس کی آخِرت کی بھلائی کی خاطِر شَرِیْعت کی خِلاف ورزی کرنے پر اس کی اِصلاح کریں ، اگرسمجھانے سے فتنے کااندیشہ ہوتودل میں بُراضرورجانناچاہئے ۔ جبکہ ذاتی مُعاملات میں خلافِ مِزاج باتوں پرصَبْروتحمل اورعَفْوودَرگُزرسے ہی کام لینا چاہیے ، کوئی کتناہی غُصّہ دِلائے لیکن ہمیں اپنی زَبان اورہاتھوں کوقابُومیں رکھتے ہوئے رِضائے الٰہی کی خاطِرمُعاف کردیناچاہیے کیونکہ جب زَبان بے قابوہوجاتی ہے توبعض اَوْقات بنے بنائے کام بھی بِگاڑ دیتی ہے ، کسی نے سچ کہاہے کہ
ہے فَلاح و کامرانی نَرمی و آسانی میں ہر بنا کام بِگڑ جاتا ہے نادانی میں
یادرکھئے !اگرہم کسی کی غَلَطی پررِضائے اِلٰہی اوراچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ اس سے اِنتِقام لینا چھوڑدیں توہمارا مُعاشَرہ اَمْن وسُکون کاگہوارابن سکتاہے اورفتنے فَسادکے ناپاک جَراثِیم خُودبخُوددَم توڑجائیں گے ۔ بُردباری ونرم دلیاللہعَزَّ وَجَلَّکوپسند ہے ، یقیناًجسے یہ عظیم دولت مل گئی وہ بڑابختاور( خوش نصیب) ہے ، نرمی اِنْسان کی زِینت ہے ، ہر وَقْت بد مزاجی سے پیش آناتہذیب کے بھی خلاف ہے ، بااَخلاق اورنرم خُوشَخْص سب کوپیارا لگتاہے جبکہ تُندمِزاج اورسَخْت دل شَخْص سے لوگ دُوربھاگتے ہیں ۔ نرمی اپنانے کے لیے اس کی فضیلت پرمشتمل چارفرامِینِ مصطفٰے پیشِ خدمت ہیں :
نرمی کی فضیلت پرمُشْتَمِل چارفرامین مصطفٰے :
(1)…ارشادفرمایا : اِنَّ اللہَ رَفِيْقٌ يُّحِبُّ الرِّفْقَیعنی بے شکاللہعَزَّ وَجَلَّ رفیق ہے اورنرمی کوپسند فرماتاہے ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَالَايُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ وَمَالَا يُعْطِي عَلَى مَاسِوَاهُاورنرمی پروہ کچھ عطا فرماتاہے جونہ توسختی پرعطافرماتاہے اورنہ ہی نرمی کے علاوہ کسی اورچیزپرعطافرماتا ہے ۔ (1)
________________________________
1 - مسلم ، کتاب البر والصلة ، باب فضل الرفق ، ص۱۰۷۲ ، حدیث : ۶۶۰۱