Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
334 - 541
گِڑگِڑاکرکہنے لگا : آپ ہی میری جان بخشی کیجئے !تورَحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے مُعاف فرماکرچھوڑدیا ۔ چنانچِہ غَورَث اپنی قَوم میں آکرکہنے لگاکہ اے لوگو!میں ایسے شَخْص کے پاس سے آیاہوں جوتمام انسانوں میں سب سے بہترہیں ۔ (1) 
سوبار تِرا دیکھ کر عفو اور تَرَحُّم		ہر باغی و سرکش کا سر آخر کو جُھکا ہے (2)
 ٭ …  حضرت سیِّدُنااَنس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکابیان ہے کہ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمموٹے اورکھردرے کناروں والی نجرانی چادراوڑھے کہیں تشریف لے جارہے تھے ، میں بھی آپ کے ہمراہ تھا ، اچانک ایک اعرابی( دیہاتی) نے چادرمبارک کو پکڑکر جھٹکے سے کھینچاکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک گردن پرخراش آگئی اور کہنے لگا : اللہعَزَّ  وَجَلَّکا جومال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی کچھ دینے کاحکم دیجئے ۔  آپ اس کی طرف متوجہ ہوکرمسکرادیئے اوراسے کچھ مال عطافرمانے کاحکم دیا ۔ (3) 
 ٭ …  لبیدبن اعصم نے آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمپرجادوکیاتوآپ نے اس سے بدلہ نہ لیا ۔ 
 ٭ …  اسی طرح اُس غیرمسلمہ عورت کوبھی معاف فرمادیاجس نے آپ کوزہردیاتھا ۔ (4) 
 ٭ …  غزوۂ اُحُدمیں مدینے کے سُلطانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مُبارَک دَندان كاكچھ کنارہ شہیداورچہرۂ اَنورکوزخمی کردیاگیامگرآپ نے ان کے لئے اس کے سِواکچھ نہ فرمایا کہ اَللّٰھُمَّ اھْدِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنِیعنی اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!میری قوم کوہِدایت دے کیونکہ یہ



________________________________
1 -    بخاری ، کتاب المغازی ، باب غزوة ذات الرقاع ، ۳ /  ۶۰ ، حدیث : ۴۱۳۶
 مسند احمد ، مسند جابر بن عبد اللّٰہ ، ۵ /  ۱۵۱ ، حدیث : ۱۴۹۳۴
2 -     مسدس حالی ، ص۱۲۸
3 -    بخاری ، کتاب فرض الخمس ، باب ماکان النبی...الخ ، ۲ /  ۳۵۹ ، حدیث : ۳۱۴۹
4 -    مواهب اللدنیة ، فیما اکرمہ اللّٰہ تعالی بہ...الخ ، ۲ /  ۹۱