Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
333 - 541
 رہنے دیااورفتْحِ مکہ کے دن جب آپ اورآپ کے جانثارصحابہ ان پر غالب آگئے تو ان سے بدلہ لینے کے بجائے کمالِ حلم  وشفقت فرماتے ہوئے انہیں مُعاف فرمادیا ۔ 
جان کے دشمن خون کے پیاسوں کو بھی شَہرِمکہ میں
عام معافی تم نے عطا کی کتنا بڑا احسان کیا(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارا مُعامَلہ تو یہ ہے کہ آپس کے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو زِندگی بھر کا مسئلہ بنائے  رکھتے ہیں اور صُلح کی کوئی  گنجائش بھی  نہیں چھوڑتے ۔  جبکہ ہمارے آقا ، مکی مَدَنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامعمول تھاکہ اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہ لیتے ۔ آئیے !اپنے  کردار کو سُنَّتِ نَبَوی کاآئینہ داربنانے کے لئے مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حِلم وکَرم سے مُتَعَلِّق چندروایات سنتے ہیں ۔ چنانچہ
حِلْمِ مُصْطَفٰے پرمُشْتَمِل چندروایات
 ٭ …  مروی ہے کہ ایک مرتبہ سفرمیں حضورپُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآرام فرما رہے تھے کہ غَورَث بن حارِث نے آپ کو شہید کرنے کے اِرادے سے آپ کی تلوار نِیام سے کھینچ لی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیندسے بیدار ہوئے تو غَورَث کہنے لگا : اے محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) !اب آپ کومجھ سے کون بچاسکتاہے ؟آپ نے اِرْشادفرمایا : اللہعَزَّ  وَجَلَّ ۔ اتناکہناتھاکہ تلواراُس کے ہاتھ سے گِرگئی اورسرکارِعالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تلوارہاتھ مُبارَک میں لے کرارشادفرمایا : اب تجھے مجھے سے کون بچائے گا؟غَورَث 



________________________________
1 -   وسائل بخشش مرمم ، ص۱۹۷