Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
329 - 541
 آیت نمبر159میں ارشادفرماتاہے : 
فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪      ( پ۴ ، اٰل عمرٰن : ۱۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان : تو کیسی کچھاللہکی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگرتُندمِزاج سخت دل ہوتے تووہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے ۔
	حضرت سیِّدُناعبدُاللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : میں نے سابقہ کتابوں میںرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ صفات لکھی دیکھی ہیں کہ آپ نہ توتنگ مِزاج ہیں ، نہ سخت دل ، نہ بازاروں میں شور کرنے والے اورنہ ہی بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دینے والے بلکہ مُعاف کرنے اور دَرْگُزر فرمانے والے ہیں ۔ (1) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحِلْم وعَـفْو یعنی اَذِیَّت پہنچانے والوں کوانتقام لینے کی قدرت ہونے کے باوجوددرگزرکرنے اورمعاف کر دینے والی عادتِ مبارکہ کے وہ عظیم شاہکارتھے جس کی مثال پوری دنیامیں نہیں ملتی ۔  چنانچہ
حِلمِ مُصْطَفٰے : 
	مروی ہے کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسلام کی دعوت  دینے کے لئے جب طائف کاسفرفرمایاتو حضرت سیِّدُنازیدبن حارثہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کے ہمراہ تھے ۔  طائف میں بڑے بڑے اُمَرااورمال دارلوگ رہتے تھے ۔ اِن میں ’’ عَمْرو  ‘‘ کاخاندان تمام قَبائل کاسردارشُمارکیاجاتاتھا ۔ یہ تین بھائی تھے ۔  عَبْدِ یَالِیْل ، مسعوداورحبیب ۔ آپ صَلَّی



________________________________
1 -   تفسیر ابن کثیر ، پ ۴ ، الٰ عمران ، تحت الایة : ۱۵۹ ، ۲ /  ۱۳۰