وقدرت کے باوُجُودمُعاف کردے ۔ (1)
(2)…حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اللہعَزَّ وَجَلَّکے ہاں عزّت وبُزرگی چاہو ۔ ‘‘ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : وہ کیسے ؟اِرْشادفرمایا : ”جوتم سے قَطع تعلُّقی کرے اس سے صِلَہ رِحْمی کرو ، جوتمہیں محروم کرے اسے عَطا کرواورجوتم سے جَہالت سے پیش آئے اس کے ساتھ بُردباری اِخْتیار کرو ۔ “(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ احادیْثِ مُبارکہ میں حِلم و بُردباری اِخْتیارکرنے کی کس قَدَر ترغیب دِلائی گئی ہے ۔ لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم بھی اس اچھی صِفَت کواَپنانے کی کوشش کریں ، اِبْتدامیں اگرچہ مُشکل ضَرورہوگی ، لیکن سچی لگن اورکوشش سے تمام کام آسان ہوجاتے ہیں جیساکہ فرمانِ مُصطفٰے ہے : علم سیکھنے سے آتاہے ، تَحَمُّل مِزاجی بتکلُّف برداشت کرنے سے پیداہوتی ہے اورجوبھلائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے بھلائی دی جاتی ہے اورجوشَرسے بچناچاہتاہے اُسے بچایاجاتاہے ۔ (3)
حدیثِ پاک کے اس حصے ’’ تَحَمُّلمِزاجی بتکلُّف برداشت کرنے سے پیداہوتی ہے ‘‘پرغورفرمائیے اورنیت کیجئے کہاِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّہم بھی اپنے اندربرداشت کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ۔
حضورنَبِیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحِلم وبُردباری اورنَرم دِلی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ اللہرَبُّ الْعٰلَمِیْنعَزَّ وَجَلَّآپ کی نَرم دِلی کی تعریف کرتے ہوئے پارہ4 ، سُوْرۃُ اٰلِ عمرٰن ،
________________________________
1 - مسند فردوس ، ۱ / ۱۳۲ ، حدیث : ۸۴۹
2 - الترغیب لابن شاهین ، کتاب الحلم وفضلہ وما فیہ ، ص ۲۴۹ ، حدیث : ۲۴۱
3 - معجم اوسط ، ۲ / ۳۰۱ ، حدیث : ۲۶۶۳