Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
330 - 541
 اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتینوں کے پاس تشریف لے گئے اوراِسْلام کی دعوت دی ۔ انہوں نے اسلام قَبول نہ کیابلکہ اِنتہائی بیہودہ اورگُستاخانہ جواب دیا ۔ ان بَدنصیبوں نے اسی پربس نہ کی بلکہ طائف کے شریروں کوآپ کے ساتھ بُراسُلُوک کرنے پراُبھارا ۔ چُنانچہ ان شریروں نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرچاروں طرف سے حملہ کردیااورآپ پرپتھر برسائے یہاں تک کہ آپ کاجِسْمِ نازنین زخموں سے لہولہان ہو گیا ۔  نَعْلینِ مُبارک خُون سے بھر گئے ۔ زَخْموں سے بے تاب ہوکربیٹھ جاتے تویہ ظالِم اِنْتہائی بے دَرْدی کے ساتھ بازوپکڑکر اُٹھاتے ، جب آپ چلنے لگتے توپھرپتھروں کی بارش کرتے ، ساتھ ہی ساتھ طَعْنہ زَنی کرتے ، سَبّ وشَتْم کرتے ، تالیاں بجاتے ، ہنسی اُڑاتے ۔ حضرت سیِّدُنازیدبن حارثہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دوڑدوڑکرحُضُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرآنے والے پتھروں کواپنے بدن پر لیتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خُون میں نہاگئے اورزَخْموں سے نڈھال ہوگئے ۔ حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماَنگورکے ایک باغ میں تشریف لے گئے ۔ (1) 
حق کی راہ میں پتھر کھائے خوں میں نہائے طائف میں
دِین کا کتنی محنت سے کام آپ نے اے سلطان کیا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جنگ اُحدسے بھی سخت دن :
	طویل عرصے بعدایک مرتبہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حُضُورِاقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دریافت کِیا : یَارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی



________________________________
1 -    مواهب اللدنیة ، هجرتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۱ /  ۱۳۵
2 -     وسائل بخشش مرمم ، ص۱۹۷