Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
327 - 541
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) ( پ۲۹ ، القلم : ۴) 	ترجمۂ کنزالایمان : اور بیشک تمہاری خُوبُو بڑی شان کی ہے ۔
	تاجدارِکائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایا : بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق یعنی مجھے اچھے اَخْلاق کی تکمیل کے لیے مَبعُوث کِیا گیا ہے ۔ (1) توجن کیبِعْثَت( بھیجنے ) کامَقْصد اچھے اَخْلاق سکھانا ہوخُود ان کے اَخْلاقِ عظیمہ کا عالَم کیا ہوگا ۔  
حِلْم کی تعریف اور اس کی اَہَمیّت :
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاکیزہ اَوْصاف میں سے ایک پیاری صِفَت  ’’ حلم  ‘‘ بھی ہے ۔ حلم کامعنیٰ ہے : اپنی طبیعت سے غُصّے کو ضبط کرنا ۔ (2) یعنی غُصّہ آئے تو اسے پی جاناحلم کہلاتا ہے ۔ یاد رکھئے !غُصّہ اِنْسانی فطرت میں شامل ہے ، یہ ایک غَیْراِخْتیاری اَمْرہے ، اس میں ہماراکوئی قُصُورنہیں ۔ لیکن غُصّے سے بے قابُو ہوجانابُرافعل ہے ۔ لہٰذا جب بھی غُصّہ آئے توحلم کامُظاہَرہ کرتے ہوئے اسے دَبانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ غُصّہ پینے اوربُردباری اِخْتیارکرنے کے بے شُمارفَضائل ہیں ۔ دوفرامِینِ مُصطفٰے ملاحظہ فرمائیے ۔  چنانچہ
بُردباری کی فضیلت : 
(1)…حضورنِبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : تم میں سب سے زِیادہ طاقتوروہ ہے جوغُصّہ کے وَقْت خُودپرقابُوپالے اورسب سے زِیادہ بُردباروہ ہے جوطاقت 



________________________________
1 -    مسند بزار ، مسند ابی هریرة ، ۱۵ /  ۳۶۴ ، حدیث : ۸۹۴۹
2 -   حاشیہ سیرتِ رسولِ عربی ، ص۲۹۳