Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
324 - 541
وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایا : بروزِقیامت اللہعَزَّ  وَجَلَّکے نزیک لوگوں میں سے سب سے بہتروہ ہوں گے جو( دنیامیں) عمدہ طریقے سے پورا پوراحق دیتے ہوں گے ۔ (1) 
خُلقِ عظیم سے مجھے حصہ عطا کرو!		بے جا ہنسی کی خصلَتِ بَد کو نکال دو(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بُردباری اپناؤ!
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس قَدرعَفْوودَرْگُزرفرمانے والے اورنِہایت شفیق وبُردبارتھے ۔ سب کے سامنے  سودے سے انکارکا اِلْزام لگا نے والے کو بدلہ لینے کی طاقت و قُدرت کے باوُجُود  مُعاف فرما کرحُسنِ اَخلاق کامُظاہَر ہ فرمایا ۔ اس رِوایَت سے ہمیں بھی یہ دَرْس ملاکہ دَورانِ تِجارت خریدوفروخت کرتے وَقْت حِلْم ، برداشت ، سچائی اوردِیانت داری سے کام لیناچاہیے ۔ سودا بیچنے والے یا خریدنے والے سے کوئی بھی اگر تکلیف دہ بات کرے توآخِرت کے لیے نیکیوں کا ذَخیرہ( جمع) کرتے ہوئے صَبْرکے گھونٹ پی لیناچاہئے ۔ جوابی کاروائی کرنا ، لڑائی جھگڑا بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپس میں نَفْرتوں کاسبب بھی بن سکتاہے ۔ بَدکلامی ، دل آزاری اوراِلْزام تَراشی والے جُملے کہنے کی صُورت میں کبیرہ گُناہوں میں جاپڑنے کابھی اندیشہ ہے ۔ لہٰذاہم میں سے ہرایک کوچاہیے کہ ایسے مَواقع پر غُصّے میں آنے ، شُعلے اُگلتی نگاہوں سے دوسروں کوڈرانے اوربات کابتنگڑبنانے کے بجائے صَبْرکامُظاہَرہ کرتے ہوئے خُودبھی گُناہوں سے بچناہوگااوردوسروں کوبھی بچانے کی کوشش کرنی ہوگی ، نیزہرایک سے حُسنِ اَخْلاق سے



________________________________
1 -    مسند احمد ، مسند السیدة عائشة ، ۱۰ /  ۱۳۴ ، حدیث : ۲۶۳۷۲
2 -    وسائل بخشش مرمم ، ص۳۰۵