ایک اعرابی کا واقعہ :
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے رِوایَت ہے کہ ایک بار حضورنَبیِّ پاک ، صاحِبِ لَوْلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی اَعرابی سے ایک وَسْق ( چھ مَنْ30سیرکھجوروں) کے بدلے میں ایک اُونٹ خریدا ۔ کھجوردینے کے لئے کاشانَۂ اَقْدس پرآکرجب کھجوریں تلاش کیں تو نہ ملیں ۔ آپ واپس اس اَعْرابی کے پاس گئے اوراِرْشاد فرمایا : عبدُاللہ!ہم نے تجھ سے ایک وَسْق کھجوروں کے بدلے اُونٹ خریداتھا ، مگرتلاش کے باوُجُودہمیں کھجوریں نہ مل سکیں ۔ یہ سُنْتے ہی وہ اَعْرابی زورزورسے چِلّانے لگا : ہائے دھوکا! صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے سناتویہ کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑے کہ تو ہلاک وبربادہو! کیارَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدھوکاکریں گے ؟آپ نے اِرْشادفرمایا : اسے چھوڑ دو!کیونکہ حق دارکوگُفْتگوکاحق حاصل ہوتاہے ۔ آپ نے دویا تین مرتبہ اس طرح فرمایا ، لیکن سمجھانے کے باوُجُودجب وہ نہ ماناتوآپ نے ایک صَحابی کو حکم دیا کہ خویلہ بنْتِ حکیم کے پاس جاؤاوران سے کہو : اگرآپ کے پاس کھجوروں کاایک وَسْق ہے توہمیں دے دیں! اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّہم واپس کردیں گے ۔ صَحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں پیغامِ رسول پہنچایا توانہوں نے کہا : میرے پاس کھجوریں موجودہیں ، آپ لینے کے لئے کسی کوبھیج دیجئے ۔ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : اس اَعرابی کولے جاؤاورجتنی کھجوریں بنتی ہیں اسے دے دو ۔ اَعرابی کھجوریں لے کرواپس آیاتوآپ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے درمیان جلوہ گرتھے ۔ اس نے عرض کی : جَزَاکَاللہُ خَیْراًیعنیاللہعَزَّ وَجَلَّآپ کوجزائے خَیْردے !آپ نے پُوراحق بڑے عُمدہ طریقے سے عطافرمادیا ۔ توحضورنَبِیِّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ