تنبیہ :
ماقبل میں جتنے بھی واقعات بیان ہوئے اختیاراتِ مصطفٰے سے متعلق تھے ، اس طرح کے معاملات میں انہیں دلیل بناکرکسی کوبھی عمل کرنے کی اجازت نہیں ، اب ہرایک پر تمام دینی احکام پرمِنْ وعَنْ ویسے ہی عمل کرناجیسے شریعت نے فرمایاہے ضروری ہے ۔
بہرحال اِخْتِیاراتِ مُصْطَفٰے سے مُتَعَلّق سیرت واحادیث کی کتابوں میں اِس طرح کے بہت سے واقعات مذکورہیں جن سے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان وعظمت اورمحبت و عقیدت دلوں میں مزید پُختہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری طرح مَعَاذَ اللہ کوئی عام بَشَر نہیں بلکہ اللہعَزَّ وَجَلَّ نے ساری کائنات میں آپ کوسب سے بلند مقام عطا فرمایا ہے ۔
دعاہے : اللہعَزَّ وَجَلَّہمیں سچّاعاشِقِ رسول بنائے اورعاشقانِ رسول کی صحبت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بَیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اورچندسنّتیں اورآداب بَیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتاہوں ۔ مصطَفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ جَنَّت نشان ہے : ’’ جس نے میری سُنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جَنَّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جُوتے پہننے کی سنَّتیں اورآداب :
٭ … فرمانِ مُصطَفٰے : ’’ جُوتے بکثرت استعمال کروکہ آدمی جب تک جوتے پہنے ہوتا
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاءفی الاخذبالسنة...الخ ، ۴ / ۳۰۹ ، حدیث : ۲۶۸۷