معلوم ہواکہ حضورِ اَقْدَسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہعَزَّ وَجَلَّکے نائبِ مُطْلَق ہیں ۔
٭ … تمام جہان حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِخْتِیارمیں کردِیاگیا ، جوچاہیں کریں ، جسے جوچاہیں حکم دیں ، یہی وجہ ہے کہ حَرَمِ مکّہ میں درخت و گھاس وغیرہ کاٹنے کے حرام ہونے کے باوُجود لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے اِذخِر گھاس کاٹنا حلال فرمادِیا ۔
٭ … سب کے لئے پانچ وقت کی نمازفرض ہونے کے باوُجودایک شخص پراُس کی عرض قبول کرتے ہوئے تین نمازیں نہ پڑھنے کی رخصت دے دی ۔
٭ … حج کا حکم بیان کرنے کے بعدجب ہرسال حج کے فرض ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو خاموشی اِخْتِیار فرما کر زندگی بھر میں ایک ہی بار حج کو فرض رکھا اورفرمادِیا کہ اگر میں کہہ دیتا کہ ’’ ہاں ہر سال فرض ہے ‘‘ توہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا ۔
٭ … اُمَّت کی دُشواری کا خیال فرماتے ہوئے مِسواک کو صِرف سُنّت ہی رکھا ، وُضو میں واجِب قرار نہ دِیا ۔
٭ … نمازِ عشاء کے وقت میں بھی اُمَّت کی آسانی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ، آدھی رات یا تہائی رات میں نمازِ عشاء پڑھنا واجب نہ فرمایا ۔
٭ … ایسی غیْرِ حامِلہ عورت جس کا شوہر فوت ہوجائے اُسے بحکمِ قرآنی چار ماہ دس دن عِدّت میں رہنا واجب ہے مگرسیِّدَتُنا اَسْماء بنْتِ عُمَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے حق میں اِس طویل عِدّت کوتین دن سے تبدیل فرمادِیا ۔
٭ … ایک سال سے کم عُمربکری کے بچے کی قُربانی جائزنہیں مگر حضرت سیِّدُنا بُردہ رَضِیَ اللہُ عَنْہکوچھ ماہابکری کے بچے کی قربانی کی اِجازت دیتے ہوئے اِرشادفرمایا کہ ’’ تمہارے بعدکسی کے لئے ایسا کرنا جائز نہ ہوگا ۔ ‘‘