Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
316 - 541
 صہباء پررسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ظہرکی نمازپڑھ کرحضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوکسی کام سے بھیج دیا ، وہ واپس لوٹے تورَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازعصرادافرماچکے تھے ( جبکہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ابھی نمازِعصرادانہیں کی تھی) ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی گودمیں سرِاَنوررکھااورآرام فرمانے لگے ، وہ آرام سے بیٹھے رہے حتّٰی کہ سورج غروب ہوگیا( نمازعصرقضاہونے پران کی آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے ) توحضورنَبِیِّ مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی :  ’’ اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ! یقیناًتیرابندہ عَلِی تیرے نبی کی اطاعت میں تھا ، اس کے لئے سورج کولوٹا دے ۔   ‘‘ حضرت سیِّدَتُنااَسماء بِنْتِ عُمَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : میں نے دیکھاکہ ڈوباہوا سورج پلٹ آیا اورپہاڑوں کی چوٹیوں اورزمین پرہر طرف دُھوپ پھیل گئی ، حضرت سیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وضوکیانمازعصراداکی پھرسورج غروب ہوگیا ۔ (1) 
	سیِّدِی اعلیٰ ، امام اہلسنت ، مولانا ، شاہ ، امام احمدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحدائِقِ بخشش شریف میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 
زمین و زماں تمہارے لئے مکین و مکان تمہارے لئے
چُنین و چُناں تمہارے لئے بنے دو جہاں تمہارے لئے
اِشارے سے چاند چِیْر دِیا چُھپے ہوئے خُور کو پھیر لِیا
گئے ہوئے دن کو عَصْر کِیا یہ تاب و تَواں تمہارے لئے (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -    معجم کبیر ، ۲۴ /  ۱۴۴ ، حدیث : ۳۸۲
2 -    حدائق بخشش ، ص۳۴۸ ، ۳۵۱