Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
313 - 541
 واقعات سے بخُوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّنے اپنے پیارے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوکیساعظیْمُ الشّان مقام ومرتبہ عطا فرمایاہے کہ شریعت کے اَحْکام کو مُقَرّرکر دینے کے بعد اُن اَحکامات  کے مکمل اِخْتِیارات ، نبیوں کے تاجْوَر ، اَفْضَلُ الْبَشَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوسَونپ دئیے ، جیساکہ
اَحکام حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سِپُردہیں : 
	مُحَـقِّق عَلَی الْاِطْلاقحضرت سیِّدُناشیخ عبْدُالحق مُحَدِّث دہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : صحیح اورمُختارمذہب یہی ہے کہ اَحکام حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سِپُرْد ہیں ، جس پر جوچاہیں حکم کریں ، ایک کام ایک پرحرام کرتے ہیں اوردوسرے پرمُباح( یعنی جائز) ۔ حَق تعالیٰ نے شریعت مُقَرَّر کرکے ساری کی ساری ، اپنے رسول ومحبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حوالے کر دی( کہ اس میں جس طرح چاہیں تبدیلی و اضافہ فرمائیں)  ۔ (1) 
	لہٰذا ہمیں چاہئے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دیگر فضائل و کمالات پر کامل یقین و ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ ، آپ کے اِخْتِیارات پربھی دل وجان سے ایمان لائیں نیز اِس قسم کے خیالات کواپنے ذہنوں میں ہرگزجگہ نہ دیں کہ جس چیز کو قرآنِ کریم میں حلال بیان کِیا گیا ہے صرف وہی حلال اور جسے قرآنِ مبین میں حرام بیان کِیا گیاصرف وہی حرام ہے بلکہ یہ ایمان ہونا چاہئے کہ باذن پَروَردَگاردوعالَم کے مالک و مُختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی احادیْثِ مُبارَکہ بھی کسی چیز کو حلال وحرام قراردینے میں قرآنِ مجیدہی کی طرح دلیل و حُجّت ہیں جیساکہ خودحضورنَبِیِّ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم



________________________________
1 -   مدارج النبوة ، قسم سوم ، باب پنجم ، ذکر سال پنجم...الخ ، ۲ / ۱۸۳