میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرہے کہ شہرمیں قُربانی کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ نمازِعید اَداہونے کے بعدہی قُربانی کرے جیساکہ کُتُب فِقَہ میں مذکورہ ہے کہ ’’ شہر میں قُربانی کی جائے توشرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نمازِ عید سے پہلے شہرمیں قُربانی نہیں ہوسکتی ۔ ‘‘ (1)
قربانی کے جانوروں کی عمر :
یونہی قربانی کے جانوروں کی عمربھی متعین ہے کہ ’’ اونٹ پانچ سال کا ، بکری ایک سال کی اس سے عمرکم ہوتوقربانی جائزنہیں زیادہ ہوتوجائزبلکہ افضل ہے ، ہاں دُنبہ یابھیڑکاچھ ماہ کابچہ اگراتنابڑہوکہ دورسے دیکھنے میں سال بھرکامعلوم ہوتاہوتواس کی قربانی جائزہے ۔ ‘‘ (2)
حضرت سیِّدُناابُوبُردہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے چونکہ نمازِعیدسے پہلے ہی قُربانی کرلی تھی اسی لئے حُضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں دوسرے جانورکی قُربانی کاحکم ارشادفرمایا ، اب ان کے پاس صرف چھ مہینے کابکری کابچہ ہی رہ گیاتھااورعُمْرکے اعتبار سے شرعاًاس کی قربانی جائزنہ تھی مگرجب انہوں نے بارگاہِ رسالت میں اپنی اس پریشانی کا تذکرہ کیاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف انہی کو چھ ماہ کے بکری کے بچے کی قربانی کی اجازت دیتے ہوئے ارشادفرمایا : تمہارے بعدآئندہ کسی کے لئے چھ ماہ کے بکری کے بچے کی قُربانی کرنا کافی نہ ہوگا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِخْتِیاراتِ مُصْطَفٰے کے بارے میں بیان کئے گئے اِن تمام
________________________________
1 - فتاوی هندیة ، کتاب الاضحیة ، الباب الثالث فی وقت الاضحیة ، ۵ / ۲۹۵
2 - درمختار ، کتاب الاضحیة ، ۹ / ۵۳۳