Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
311 - 541
کہ  حضرت سیِّدَتُنااَسماء بِنْتِ عُمَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے حق میں چارماہ دس دن کی مُدّتِ عِدّت میں کمی فرماکراُنہیں صرف تین دن تک سوگ مَنانے کاحکم اِرشاد فرمایا ۔  چُنانچہ 
	حضرت سیِّدَتُنااَسماء بِنْتِ عُمَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں : جب حضرت سیِّدُناجَعْفَر طَیّاررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشہید ہوئے توباذنِ پروردگاردوعالَم کے مالک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا : تین دن سِنگار( یعنی زینت) سے الگ رہوپھرجوچاہو کرو ۔ (1) 
	سیِّدِی اعلیٰ حضرت اِمام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰناِس حدیْثِ پاک کونَقْل کرنے کے بعدارشادفرماتے ہیں : یہاں حضورِاَقْدَسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کواِس حکم عام سے استثناء( علٰیحدہ) فرمادِیاکہ عورت کوشوہرپرچارمہینے دس دن سوگ واجب ہے ۔ (2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(7)…قربانی اوراختیارِمصطفٰے :
	حضرت سیِّدُنا بَرَاء بن عازِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابُو بُردہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے نمازِعیدسے پہلے ہی قُربانی کرلی تورسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : اِس کے بدلے دوسری قُربانی کرو( کہ وہ قُربانی نہ ہوئی) توانہوں نے عَرْض کی : یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم!اب تومیرے پاس چھ مہینے کابکری کابچہ ہے جوایک سال کی بکری سے بہتر ہے ۔ توآپ نے ارشادفرمایا : اِجْعَلْهَامَكَانَهَاوَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ اَحَدٍ بَعْدَكَ یعنی اُس کی جگہ اِسے ذبح کردومگرتمہارے بعدکسی اَورکے لئے ایساکرناہرگزکافی نہ ہوگا ۔ (3) 



________________________________
1 -    سنن کبری للبیهقی ، کتاب العدد ، باب الاحداد ، ۷ /  ۷۲۰ ، حدیث : ۱۵۵۲۳
2 -   فتاوی رضویہ ، ۳۰ /  ۵۲۹
3 -    مسلم ، کتاب الاضاحی ، باب وقتها ، ص۸۳۵ ، حدیث : ۵۰۷۷