)6(…عِدَّت کاحکم اوراختیارِمصطفٰے :
اگرکسی عورت کاشوہرمرجائے اوروہ حامِلہ نہ ہوتواُس کی عِدّتاللہعَزَّ وَجَلَّنے قراٰنِ کریم میں چارماہ دس دن بیان فرمائی ہے ۔ چنانچہ پارہ2 ، سُوْرَۃُ الْبَـقَرَۃ ، آیت نمبر234میں ارشادہوتاہے :
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ ( پ۲ ، البقرة : ۲۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اورتم میں جومریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں ۔
تفسیرخزائنُ العرفان :
صَدْرُالْافَاضِل مُفتی سیِّدمحمدنعیْمُ الدِّین مُرادآبادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس آیت کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : حامِلہ کی عدّت تو وَضْعِ حَمَل ہے ( یعنی بچّہ جنتے ہی عِدَّت ختم ہوجائے گی) جیساکہ ’’ سُوْرَۃُ الطَّلَاق ‘‘ میں مذکورہے ، یہاں غیْرِ حامِلہ کابیان ہے ، جس کا شوہرمرجائے ، اُس کی عدّت چارماہ دس روز ہے ۔ اِس مُدّ ت میں نہ وہ نکاح کرے ، نہ اپنا مَسْکَن( یعنی شوہرکا گھر) چھوڑے ، نہ بے عُذرتیل لگائے ، نہ خوشبو لگائے ، نہ سِنگارکرے ، نہ رنگین اور ریشمی کپڑے پہنے نہ مہندی لگائے ، نہ جدیدنکاح کی بات چیت کُھل کر کرے ۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ آیت اوراس کی تفسیرکی روشنی میں واضح طور پرمعلوم ہواکہ اگرغیْرِحامِلہ عورت کا شوہر فوت ہوجائے تواُس کی عِدّت چارماہ دس دن ہے ۔ آئیے اب اِس مُعاملے میں بھی سرورِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکااِخْتِیارمُلاحظہ کیجئے
________________________________
1 - خزائن العرفان ، پ۲ ، البقرۃ ، تحت الایۃ : ۲۳۴