Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
309 - 541
 دے ۔ ( مزید فرماتے ہیں کہ ) اُن کی ایک نگاہِ کرم کبائر( یعنی کبیرہ گناہوں) کو حَسَنات( یعنی نیکیوں میں تبدیل) کردیتی ہے جب تواَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنجَلَّ جَلَالُـہٗنے گُناہ گاروں ، خطاواروں ، تباہ کاروں کو اُن کادروازہ بتایاکہ : وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ ( پ۴ ، النسآء : ۶۴) گُناہ گارتیرے دربار میں حاضرہوکرمُعافی چاہیں اورتُوشفاعت فرمائے توخُداکو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ (1) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
)5(…گواہی اوراختیارِمصطفٰے :
اللہعَزَّ  وَجَلَّنے باہمی لَین دَین کے مُعاملات میں دومَردوں کوگواہ بنانے کاحکم دیتے ہوئے پارہ3 ، سُوْرَۃُ الْبَـقَرَۃ ، آیت نمبر282میں ارشادفرمایا : 
وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ    ( پ۳ ، البقرة : ۲۸۲) 	ترجمۂ کنزالایمان : اوردوگواہ کرلواپنے مَردوں میں سے ۔
	اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی معاملے میں تنہا مرد کی گواہی شَرعاًقبول نہیں اوریہ تمام مُسلمانوں کے لئے ہے مگرنَبِیِّ مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی مرضی مُبارک سے حضرت سیِّدُناخُـزَیـْمَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اِس عام حکم سے بَری اورآزادقرار دیتے ہوئے کسی بھی مُعاملے میں اِن کی تنہاگواہی کو دو مَردوں کی گواہی کے برابرکر دِیا اورارشادفرمایا : مَنْ شَھِدَلَہٗ خُزَیْمَۃُ اَوْشَھِدَعَلَیْہِ فَہُوَحَسْبُہٗیعنیخُـزَیـْمَہکسی کے حق میں یاکسی کے خلاف گواہی دیں توتَنِ تنہاان کی گواہی کافی ہے ۔ (2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   ماخوذازفتاوی رضویہ ، ۳۰ /  ۵۳۱
2 -   معجم کبیر ، ۴ /  ۸۷ ، حدیث : ۳۷۳۰