عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِخْتِیارات پر کہ ساری اُمَّت پرپانچ نمازیں فرض ہونے کے باوُجُودتین فرض نمازیں چھوڑ نے کی اِجازت عطا فرمادی ۔ چنانچہ
مروِی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض کی : میں اس شرط پر اسلام قبول کرتاہوں کہ دونمازیں ہی پڑھاکروں گا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبول فرمالیا ۔ (1) یادرہے کہ ترکِ نماز کی یہ اجازت صرف اُنہی صاحب کے لئے خاص تھی کسی اَورکوبلاعذرِشرعی ایک نماز بھی ترک کرنا جائز نہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ سارے مسلمانوں پرپانچ نمازیں فرض ہیں مگر پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن صاحب کواپنے اِخْتِیارسے تین نمازیں نہ پڑھنے کی اِجازت عطا فرمادی ۔
روزے کاکفارہ :
یونہی روزے کے کَفّارے کابھی ایک واقعہ ہے ، وہ بھی سماعت فرمالیجئے ، یہ بات ذہن میں رکھئے کہ رمضان کاروزہ بلااجازتِ شرعی توڑنے والے پرشرائط پائے جانے کی صورت میں قضاکے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتاہے اورکفارہ یہ ہے کہ ’’ ممکن ہوتوایک رَقَبہ یعنی باندی یاغلام آزاد کرے اوریہ نہ کرسکے توپے درپے ( یعنی مسلسل) 60روزے رکھے ، یہ بھی نہ کر سکے تو60مساکین کوپیٹ بھر ، دونوں وقت کھانا کھلائے ۔ ‘‘ (2)
روزہ توڑنے والے ہرمسلمان کے لئے یہی حُکمِ شَرعی ہے مگرشارِعِ اسلام ، شاہِ خیْرُالاَنام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوروزے کاکفارہ معاف فرماتے ہوئے
________________________________
1 - مسند احمد ، مسند البصریین ، ۷ / ۲۸۳ ، حدیث : ۲۰۳۰۹
2 - ردالمحتار ، کتاب الصوم ، مطلب فی الکفارة ، ۳ / ۴۴۷