تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوحرام و حلال کے اَحْکامات میں تبدیلی کامکمل اِخْتِیاردِیاہے اورپھرخُودحضور نَبَیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے بھی یہ نہ فرمایاکہ مجھے اِس کااِختیارنہیں بلکہ اپنے اِخْتِیارات کو استعمال کرتے ہوئے اِذخِر گھاس کو حلال و جائز قرار دے کر گویا اُن کے اِس عقیدے پر اپنی مُہرِ تصدیق ثبت فرمادی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِخْتِیاراتِ مصطفٰے کے اب تک بیان کئے گئے تمام واقعات ، اُن چیزوں یااَحکامات کے بارے میں ہیں جن میں حُضورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اِخْتِیارات سے بِلااِمْتیازاپنی اُمَّت کے تمام اَفرادکے لئے آسانی عطا فرمائی ۔ اب پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِخْتِیارات کی وہ شان بھی مُلاحظہ کیجئے کہ ایک چیزجوساری اُمَّت کے لئے توفرض وواجب ہے کہ اگرکوئی ترک کردے توگُناہ گارہومگر حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اِخْتِیارات سے اِمتیازی طورپر ایک یا چند اَفراد کو اُس فرض و واجب کے ترک کی اِجازت عطا فرمادی ، یونہی ایک چیزجو ساری اُمَّت کے لئے توحرام و ناجائزہے کہ اگر کوئی کرے تو گُناہ گارہومگرآپ نے کسی ایک یاچندمخصوص اَفراد کے لئے اُسے حلال و جائز فرمادِیا ۔ آئیے !چندایمان افروزواقعات سنتے ہیں ۔
(3)…پنج وقتہ نمازاوراِختیارِمصطفٰے :
اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہرمُسلمان پردن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ۔ نماز کی فرضِیَّت کااِنکارکُفْرہے اورجان بُوجھ کرایک باربھی چھوڑنے والاگُناہِ کبیرہ کامُرتکب اور جہنم کی آگ کا حق دارہے جیساکہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ دن رات میں پانچ نمازیں( فرض) ہیں ۔ ‘‘ (1) مگرقربان جائیے !سرکارِ نامدار ، نَبِیِّ مُختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان الصلوات...الخ ، ص۳۵ ، حدیث : ۱۰۰