)2(…حرم شریف کی گھاس اوراختیارِمصطفٰے :
فتْحِ مکہ کے موقع پرباذنِ پروردگاردوعالَم کے مالک و مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حَرَمِ مکّہ کی گھاس وغیرہ کاٹنے کی حُرمَت بیان کرنے کے بعدحضرت سیِّدُنا عبّاسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی گُزارِش پراپنے خاص اِخْتِیارات کااِسْتعمال کرتے ہوئے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ضرورتوں کی وجہ سے حَرَم شریف سے اِذخِرنامی گھاس کاٹنے کوحلال وجائزکر دِیا ۔ چنانچہ
مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : اِنَّ اللہَ حَرَّمَ مَـکَّۃَبے شکاللہعَزَّ وَجَلَّنے مکّے شریف کوحَرَم بنایاہے ۔ لہٰذانہ یہاں کی گھاس اُکھیڑی جائے اورنہ ہی یہاں کادرخت کاٹاجائے ( کہ یہ سب کام حَرَمِ مکّہ میں حرام و ممنوع ہیں) ۔ اِس پر حضرت سیِّدُناعباس بنعبْدُالمُطَّلِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عَرْض کی : اِلَّاالْاِذْخِرَلِصَاغَتِنَاوَلِسُقُفِ بُیُوْتِنَایعنی ہمارے سُناروں اورہمارے گھرکی چھتوں کے لئے اِذخِرگھاس کوجائزفرمادیجئے ۔ توآپ نے ارشادفرمایا : اِلَّاالْاِذْخِرَیعنی اِذخِرگھاس کی تمہیں اِجازت ہے ۔ (1)
عقیدۂ صحابہ :
سُبْحٰنَاللہعَزَّ وَجَلَّ!ذرا غورکیجئے کہ حَرَم شریف کی گھاس وغیرہ کاٹنے کی حرمت کے بارے میں واضح فرمان سن لینے کے باوجودحضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسے جلِیلُ الْقَدرصحابی اِذخِر گھاس کو جائز قرار دینے کی فرمائش کر رہے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورپرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومَعَاذَاللہکوئی عام انسان یا اپنے جیسابَشَرنہ سمجھتے تھے بلکہ اُن کاعقیدہ تھاکہ اللہعَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے محبوبصَلَّی اللہُ
________________________________
1 - بخاری ، کتاب البیوع ، باب ماقیل فی الصواغ ، ۲ / ۱۶ ، حدیث : ۲۰۹۰