ہوئے آسانی کی وجہ سے ایسا نہ فرمایا ۔
اِذنِ خدا سے ہو تم مُختارِ ہر دوعالَم دونوں جہاں تمہاری خیرات کھا رہے ہیں(1)
یادرہے !مِسواک شریف ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری سُنّت ہے ۔ چنانچہ
پیارے آقاکی مسواک سے محبت :
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : اَنَّ النَّبِیَّصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا دَخَلَ بَیْتَہٗ بَدَاَ بِالسِّوَاکِیعنی حضورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی دولت خانے میں تشریف لاتے توسب سے پہلے مِسواک ہی کِیاکرتے تھے ۔ (2) اوررات یادن میں جب بھی آپ آرام فرماتے توبیدارہوکر وضو سے پہلے مِسواک شریف کِیا کرتے تھے ۔ (3)
لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ دیگر سُنّتوں کے ساتھ ساتھ مِسواک شریف کی سُنّت پر بھی عمل کِیا کریں ، اس سے اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّسُنّت کاثواب توملے گاہی ساتھ ہی ساتھ مُنہ کی پاکیزگی اوراللہعَزَّ وَجَلَّکی رِضابھی حاصل ہوگی ۔ جیساکہ
منہ کی پاکیزگی اوررضائے رب :
فرمانِ مصطفٰے ہے : اَلسِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِّلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِّلـرَّبِّیعنی مِسواک مُنہ کی پاکیزگی اور ربّ تعالیٰ کی رِضاکاذریعہ ہے ۔ (4)
________________________________
1 - وسائل بخشش مرمم ، ص۲۹۷
2 - مسلم ، کتاب الطهارة ، باب السواك ، ص ۱۲۴ ، حدیث : ۵۹۱
3 - ابو داود ، کتاب الطهارة ، باب السواك لمن قام من اللیل ، ۱ / ۵۴ ، حدیث : ۵۷
4 - بخاری ، کتاب الصوم ، باب السواک الرطب والیابس للصائم ، ۱ / ۶۳۷