Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
303 - 541
 خُودمُختاری اور اُمَّت کی خیرخواہی کے بارے میں تین فرامِینِ مُصْطَفٰے سُنتے ہیں ۔ چنانچہ
اُمَّت پرشقت ومہربانی : 
(1)…ارشادفرمایا : لَوْلَااَنْ اَشُقَّ عَلٰى اُمَّتِيْ لَفَـرَضْتُ عَلَيْہِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَـرَضْتُ عَلَيْہِمُ الْوُضُو ْءَیعنی اگر مجھے اپنی اُمَّت کی دُشواری کا خیال نہ ہوتاتو میں اُن پر مِسواک کو اُسی طرح فرض کردیتاجس طرح میں نے اُن پر وضو فرض کِیا ہے ۔ (1) 
(2)…ارشادفرمایا : لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰى اُمَّتِيْ لَاَمَرْتُهُمْ اَنْ يُّـؤََخِّـرُوا الْعِشَاءَ اِلٰى ثُلُثِ اللَّيْلِ اَوْ نِصْفِہٖیعنی اگرمجھے اپنی اُمَّت کی مَشَقَّت کا خیال نہ ہوتاتومیں عشاء کی نمازکوتہائی یاآدھی رات تک مؤخَّر کرنے کاحکم دیتا ۔ (2) 
(3)…ارشادفرمایا : لَوْلَاضَعْفُ الضَّعِيْفِ وَسُقْمُ السَّقِيْمِ لَاَخَّرْتُ هٰذِهِ الصَّلَاةَ اِلٰى شَطْرِاللَّيْلِ یعنی اگر بوڑھوں کی کمزوری اور مریضوں کی بیماری کاخیال نہ ہوتاتواِس نماز( یعنی نمازِ عشاء ) کوآدھی رات تک ضرور مؤخَّر کردیتا ۔ (3) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِن احادیْثِ مُبارَکہ سے معلوم ہواکہ حضورِنَبِیِّ اکرم ، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماگرچاہتے توعشاء کی نمازکومُؤَخَّرفرمادیتے کہ تہائی یا نصف رات سے پہلے نمازِعشاء پڑھناجائزہی نہ ہوتااوراسی طرح ہرنمازسے پہلے مِسواک فرض فرمادیتے کہ بغیرمِسواک نمازہی نہ ہوتی ۔ (4) مگراُمَّت پرشفقت ومہربانی کرتے 



________________________________
1 -    مسند احمد ، حدیث تمام بن العباس ، ۱ /  ۴۵۹ ، حدیث : ۱۸۳۵
2 -    ترمذی ، کتاب الصلوة ، باب ماجاء فی تاخیر صلوة العشاء الاخرة ، ۱ / ۲۱۴ ، حدیث : ۱۶۷
3 -    ابو داود ، کتاب الصلوة ، باب وقت العشاء الاخرة ، ۱ / ۱۸۵ ، حدیث : ۴۲۲
4 -    ماخوذازمراٰۃ المناجیح ، ۱ /  ۲۸۰