Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
302 - 541
کااعلان کرتے ہوئے خطبے میں ارشادفرمایا : اَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَاللہُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا یعنی اے لوگو!اللہعَزَّ  وَجَلَّنے تم پرحج فرض فرمادِیاہے لہٰذاحج کِیاکرو ۔ توایک صحابِیِ رسول( حضرت سیِّدُنااَقْرَع بن حابِسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے عَرْض کی : یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیاہرسال حج کرنافرض ہے ؟تین مرتبہ انہوں نے یہی سوال کیامگررسولوں کے سالار ، نَبِیِّ مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہربارخاموشی اختیارفرمائی اورارشادفرمایا : لَوْ قُلْتُ نَعَمْ  لَوَجَبَتْیعنی اگر میں نے ”ہاں“ کہہ دِیا ہوتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا ۔ (1) 
	یادرہے کہ حج زندگی میں ایک بارہی فرض ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ صحابِیِ رسول حضرت سیِّدُنااَقْرَع بن حابِسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب ہر سال حج فرض ہونے کے بارے میں سُوال کِیاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : بَلْ مَرَّۃً وَّاحِدَۃً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ یعنی  حج ایک ہی مرتبہ( فرض) ہے جو ایک سے زائد کرے گاوہ نفل ہوگا ۔ (2) 
	سُبْحٰنَاللہعَزَّ  وَجَلَّ!حُضورِاَنْورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان و عظمت ، اِخْتِیارا ت اورفکرِ اُمَّت کاانداز ہ اِس بات سے لگائیے کہ ہر سال حج فرض کردینے کا اِخْتِیار ہونے کے باوُجود  اُمَّت کو مشقّت سے بچانے کے لئے ”ہاں “فرما کر ہر سال حج فرض نہ فرمایا ، البتہ اپنے اِخْتِیارکاواضح طورپراِظہارفرمادِیاکہ اگرمیں”ہاں“کہہ دیتاتوہرسال ہی حج کرنافرض ہوجاتا ۔  یادرہے یہ کوئی پہلا موقع نہ تھا بلکہ بہت سے مواقع پرغمخوارِامت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم گُناہ گاروں کی مَشَقَّت و دُشواری کا لحاظ کر تے ہوئے شرعی مسائل میں ہماری آسانیوں کاخاص خیال فرمایا ۔ اِس ضمن میں پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی



________________________________
1 -    مسلم ، کتاب الحج ، باب فرض الحج مرة فی العمر ، ص ۵۳۶ ، حدیث : ۳۲۵۷
2 -    مستدرک ، کتاب التفسیر ، فرضیة الحج  فی العمر مرة  واحدة ، ۲ / ۱۰ ، حدیث : ۳۲۱۰