Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
301 - 541
 تمام جہان حُضُور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے تحْتِ تَصَرُّف( یعنی اِخْتِیارمیں) کردِیاگیا ، جو چاہیں کریں ، جسے جوچاہیں دیں ، جس سے جو چاہیں واپس لیں ، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والاکوئی نہیں ، تمام جہان اُن کامَحْکُوْم( یعنی حکم کاپابند) ہے اوروہ اپنے رَبّ کے سِواکسی کے مَحْکُوْمنہیں ، تمام آدمیوں کے مالک ہیں ، جواُنہیں اپنامالک نہ جانے حلاوتِ سنّت( یعنی سنّت کی مِٹھاس) سے محروم رہے ، تمام زمین اُن کی مِلک ہے ، تمام جنّت اُن کی جاگیرہے ، مَلَکُوْتُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْض( یعنی آسمان و زمین کی سَلْطَنَتیں) حضورکے زیرِفرمان ، جنّت ونار کی کُنْجِیاں دسْتِ اَقْدَس میں دے دی گئیں ، رِزْق وخیراورہرقِسَم کی عطائیں ، حضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی کے دربارسے تَقْسِیْم ہوتی ہیں ، دُنیاوآخرت حضورکی عطاکاایک حِصَّہ ہے ۔ شریعت کے اَحْکام حضورکے قبضے میں کردئیے گئے کہ جس پرجوچاہیں حرام فرمادیں اور جس کے لئے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں مُعاف فرمادیں ۔ (1) 
کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر		کونین کی خاطر تمہیں سرکار بنایا
کُنجی تمہیں دِی اپنے خزانوں کی خدا نے 		محبوب کیا مالک و مُختار بنایا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِختیاراتِ مُصطفٰے پرمُشْتَمِل چندواقِعات
	آئیے !اِس ضمن میں اِخْتِیاراتِ مُصْطَفٰے کے چند ایمان افروزواقعات سُنتے ہیں : 
(1)…فرضیَّتِ حج اوراِختیارِمصطفٰے : 
	جباللہعَزَّ وَجَلَّنے حج فرض فرمایااوررحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرضیت حج 



________________________________
1 -    بہار شریعت ، حصہ ۱ ، ۱ / ۷۹ تا ۸۵
2 -    ذوق نعت ، ص۳۳