Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
300 - 541
 نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ    ( پ۲۸ ، الحشر : ۷)
فرمائیں وہ لواورجس سے منع فرمائیں بازرہو ۔
	پارہ22 ، سُوْرَۃُ الْاَحْزَاب ، آیت نمبر36میں ارشادِباری تعالیٰ ہے : 
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ( پ۲۲ ، الاحزاب : ۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اورکسی مسلمان مردنہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جباللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو اُنھیں اپنے معاملہ کا کچھ اِخْتِیار رہے ۔
تفسیرخزائنُ العرفان : 
	صدْرُالْافَاضِل مُفتی سیِّدمحمدنعیْمُ الدِّین مُرادآبادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اِس سے معلوم ہواکہ آدمی کورسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی فرمانبرداری ہرمُعاملے میں واجب ہے اورنبیعَلَیْہِ السَّلَامکے مُقابلے میں کوئی اپنی ذات کابھی خودمختارنہیں ۔ (1) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	سُبْحٰنَاللہعَزَّ  وَجَلَّ!خالِقِ کائناتجَلَّ جَلَالُہٗنے اپنے پیارے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوکیسے کیسے اِخْتِیارات سے نوازاہے کہ مسلمانوں کے آپس کے مُعاملات میں بھی آپ کوحاکم ومُختاربناکرمُسلمانوں پرآپ کی اِطاعت کولازِم قراردِیا ۔  یوں ہی آپکواِس بات کابھی اِخْتِیاردِیاکہ جسے چاہیں جوچاہیں حکم فرمادیں اورجب جس چیز سے چاہیں منع فرمادیں ۔ چُنانچہ
محبوب کِیامالک ومختاربنایا : 
	صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علّامہ مولانامُفتی محمداَمْجدعلی اَعْظَمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : حضورِاَقْدَسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، اللہ( عَزَّ  وَجَلَّ) کے نائِبِ مُطْلَق ہیں ،



________________________________
1 -    خزائن العرفان ، پ۲۲ ، الاحزاب ، تحت الایۃ : ۳۶