مزید فرماتے ہیں : ) اُس سجدہ میں حضورِاَنْور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) رَبّ( عَزَّ وَجَلَّ) کی بے مثال حَمْدکریں گے اورمقامِ محمودپررَبّ تعالیٰ ، حضورِاَنْور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی ایسی حَمْد کرے گاجوکوئی نہ کرسکاہوگا ، اِس لئے حضورِاَنْور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا نام ’’ محمد ‘‘ ہے ( یعنی جس کی بہت زیادہ حَمْدوتعریف کی گئی) ۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگنہگاروں کو نکالنے ( یعنی اپنی اُمَّت کی آسانی) کے لئے دوزخ میں تشریف لے جائیں گے ، جس سے پتالگاکہ حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہم گنہگاروں کی خاطراَدْنیٰ( یعنی معمولی) جگہ پرتشریف لے جائیں گے ۔ اگرآج میلادشریف یامَجْلسِ ذِکْرمیں حضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تشریف لائیں ، تواُن کے کرم سے بعید( یعنی ناممکن) نہیں ، اِس سے اُن کی شان نہیں گھٹتی ، ہماری اورہمارے گھروں کی شان بڑھ جاتی ہے ۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میدانِ محشراورشانِ مصطفٰے :
سبحٰناللہعَزَّ وَجَلَّ!اللہرَبُّ الْعزت نے ہمارے آقاومولیٰ ، محمدِمُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوکیسی شان وشوکت کامالک بنایااورآپ کوکس قدراِخْتِیارات سے نوازاہے کہ مَحْشَرکے دن جب کہ سُورج سَوامِیْل پررہ کرآگ برسارہا ہوگا ، تانبے کی تپتی زمین پرننگے پاؤں کھڑاکردِیاجائے گا ، انسان اپنے بہن بھائیوں ، ماں باپ اور بیوی بچّوں سے بھاگتا پھر رہا ہوگا ، اُس دن ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی نیز گنہگار اپنے پسینے میں ڈُبکیاں کھارہے ہوں گے ، ایسے کڑے دن میں رحیم وکریم آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگنہگاراُمَّت کوعذابِ دوزخ سے بچانے کی خاطربے چین ہوں گے اوراللہعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہِ عالی میں شفاعَتِ اُمَّت کی اِجازت
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح ، ۷ / ۴۱۷ تا ۴۱۹ ، ملتقطًا