Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
296 - 541
  رائی کے دانے برابربھی ایمان ہو ۔ چُنانچہ 
	میں جاؤں گااورایسوں کونکال لاؤں گا ۔ پھرواپس آؤں گااورحمدِالٰہی بجالاتے ہوئے اس کے حضورسجدے میں گرجاؤں گاتوفرمایاجائے گا : يَامُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَاْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْیعنی اے محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) !اپناسراُٹھائیے ، کہئے آپ کی سُنی جائے گی ، مانگئے عطاکِیاجائے گا ، شَفاعت کیجئے ، قبول کی جائے گی ۔   ‘‘ میں عَرْض کروں گا :  ’’ يَا رَبِّ اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ ، اے ربعَزَّ  وَجَلَّ!میری امت ، میری امت ۔ کہاجائے گا : جائیے !اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی  کم ایمان ہو ، اُسے بھی نکال لائیے ۔ چُنانچہ میں جاؤں گااورایساہی کروں گا ۔ (1) 
دِکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی		کہ آپ ہی کی  خوشی آپ کا کہا ہوگا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شرح حدیث : 
	مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مفتی اَحْمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : خیال رہے کہ ہم بذاتِ خُودرَبّ تعالیٰ کی حَمْدنہیں کرسکتے ، جب تک کہ ہم کوحضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نہ سکھائیں ، ہماری حَمْدحضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سکھانے سے ہے اورحضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی حَمْدرَبّ تعالیٰ کے سکھانے سے اوررَبّ( عَزَّ  وَجَلَّ) کی جیسی حَمْد ، حضورِ اَنْوَر( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے کی ہے اورکریں گے ، مخلوق میں کسی نے ایسی حَمْدنہ کی ۔ اسی لئے آپ کانام اَحمدہے ( یعنی بہت زیادہ حَمْدوتعریف کرنے والا ۔



________________________________
1 -    بخاری ، کتاب التوحید  ،  باب کلام الرب عزوجل یوم القیمة    الخ ، ۴  / ۵۷۶ ، حدیث : ۷۵۱۰
2 -   ذوق نعت ، ص۳۵