رائی کے دانے برابربھی ایمان ہو ۔ چُنانچہ
میں جاؤں گااورایسوں کونکال لاؤں گا ۔ پھرواپس آؤں گااورحمدِالٰہی بجالاتے ہوئے اس کے حضورسجدے میں گرجاؤں گاتوفرمایاجائے گا : يَامُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَاْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْیعنی اے محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) !اپناسراُٹھائیے ، کہئے آپ کی سُنی جائے گی ، مانگئے عطاکِیاجائے گا ، شَفاعت کیجئے ، قبول کی جائے گی ۔ ‘‘ میں عَرْض کروں گا : ’’ يَا رَبِّ اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ ، اے ربعَزَّ وَجَلَّ!میری امت ، میری امت ۔ کہاجائے گا : جائیے !اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ایمان ہو ، اُسے بھی نکال لائیے ۔ چُنانچہ میں جاؤں گااورایساہی کروں گا ۔ (1)
دِکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شرح حدیث :
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مفتی اَحْمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : خیال رہے کہ ہم بذاتِ خُودرَبّ تعالیٰ کی حَمْدنہیں کرسکتے ، جب تک کہ ہم کوحضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نہ سکھائیں ، ہماری حَمْدحضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سکھانے سے ہے اورحضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی حَمْدرَبّ تعالیٰ کے سکھانے سے اوررَبّ( عَزَّ وَجَلَّ) کی جیسی حَمْد ، حضورِ اَنْوَر( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے کی ہے اورکریں گے ، مخلوق میں کسی نے ایسی حَمْدنہ کی ۔ اسی لئے آپ کانام اَحمدہے ( یعنی بہت زیادہ حَمْدوتعریف کرنے والا ۔
________________________________
1 - بخاری ، کتاب التوحید ، باب کلام الرب عزوجل یوم القیمة الخ ، ۴ / ۵۷۶ ، حدیث : ۷۵۱۰
2 - ذوق نعت ، ص۳۵