رَنج و اَلَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دُنیا میں جلوہ گری ہوئی ۔
شَبِّ قَدْرسے اَفضل رات :
حضرت سیِّدُناشیخ عبْدُالحق مُحَدِّث دِہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ”بے شک سَروَرِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شَبِ ولادت ’’ شبِ قَدرسے بھی افضل ‘‘ ہے کیونکہ شَبِ ولادت سرکارِ مَدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس دنیامیں جلوہ گرہونے کی رات ہے جبکہلَیْلَةُالقَدرسرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوعطاکردہ شب ہے اورجورات ظُہُورِذاتِ سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وجہ سے مُشَرَّف ہو ، وہ اُس رات سے زِیادہ شَرَف وعزّت والی ہے جوملائکہ کے نُزول کی بِناپرمشرَّف ہے ۔ (1)
جب کائنات میں کُفر و شرک اور وَ حشت و بَر بَرِیَّت کا گُھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ 12 رَبِیعُ الاوّل کومکّہ مکرَّمہ میں حضرت سیِّدَتُناآ مِنہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے مکانِ رَحمت نشان سے ایک ایسا نور چمکاجس نے سارے عالَم کو جگمگ جگمگ کر دیا ۔ سِسکتی ہوئی انسانیّت کی آنکھ جن کی طرف لگی ہوئی تھی ، وہ تاجدارِرِسالت ، شَہنشاہ نَبُوَّت ، محسِنِ انسانیّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام عالمین کے لئے رَحمت بن کر جلوہ گر ہو ئے ۔
12ربیعُ الاوّل کواللہعَزَّ وَجَلَّ کے نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دنیامیں جلوہ گَری ہوتے ہی کُفرو ظُلمت کے بادَل چھٹ گئے ، شاہِ ایران” کِسر یٰ“کے محل پرزلزلہ آیا ، چودہ کنگرے گِر گئے ۔ اِیران کاجو آتَش کَدہ ایک ہزار سال سے شُعلہ زَن تھا وہ بجھ گیا ، دریائے ساوَہ خشک ہو گیا ، کعبے کو وَجد آ گیا ۔
________________________________
1 - ماثبت من السنة ، ذکر شهر ربیع الاول ، ص۱۰۰