فضائل واردہوئے ہیں ، ایک حدیث پاک ملاحظہ فرمائیے ۔ چنانچہ
فرشتے اپنے بازوبچھادیتے ہیں :
مروی ہے کہ جوشخص علم کی طلب میں کسی راستے پرچلتاہے اللہعَزَّ وَجَلَّاسے جنت کے راستے پرلے جاتاہے اورطالِبِ علم کی خُوشنودی کے ليے فِرِشْتے اپنے بازُوبچھادیتے ہیں ۔ (1)
آئیے !ہفتہ وارسُنَّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ایک مدنی بہارسنتے ہیں ۔ چنانچہ
ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع کی مدنی بہار :
پنجاب( پاکستان) کے شہرچِشتیاں شریف کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : نَمازوں سے جی چُرانا ، داڑھی مُنڈانا ، والِدَین کو سَتانا وغیرہ وغیرہ گُناہ ، میری زندگی کا حصّہ بن چکے تھے ، گانے باجے سننے کاتو مجھے جُنون( یعنی پاگل پن) کی حدتک شوق تھا ، طرح طرح کے گانے میرے موبائل فون اورکمپیوٹرمیں ہروَقت موجودرہتے ۔ اِنٹرنَیٹ کے غَلَط اِستِعمال کے گناہ میں بھی مُلوَّث تھا ۔ جِینز( JEANS) کے سِوا کسی اورکپڑے کی پتلون نہ پہنتاحتّٰی کہ ایک مرتبہ عیدکے موقع پروالِدصاحِب نے سُوٹ سِلوالیا ، لیکن میں نے اُسے پہننے سے اِنکار کردیااورنَفس کی خواہِش کے مطابِق پینٹ شَرٹ خریدکر عید کے پُر مَسرَّت موقَع پروہی پہنی ۔ فیشن کادِلدادہ ہونے کی وجہ سے میں نے عمامہ اور کُرتے پاجامے کے بارے میں توکبھی سوچا بھی نہ تھا ۔ میرے سُدھرنے کے اسباب کچھ یوں ہوئے کہ ہماری مسجِدمیں جونئے امام صاحِب تشریف لائے ، وہ خوش قسمتی سے تبلیْغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ تھے ۔ ایک دن اُنہوں نے
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادة ، ۴ / ۳۱۲ ، حدیث : ۲۶۹۱